نسبت کسی مومن کو اطلاع دیتا ہے ۔اب اگر چہ ڈاکٹروں کے نزدیک اس کا خاتمہ نہیں ۔مگر خداکے نزدیک اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آجاتا ہے ۔
علم طب یونانیوں سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا مگر مسلمان چونکہ موحداورخداپرست قوم تھی ۔ انہوں نے اسی واسطے اپنے نسخوں پر ھوالشافی لکھنا شروع کردیا ۔ ہم نے اطلباء کے حالات پڑھے ہیں ۔ علاج الامراض میں مشکل امرتشخیص کو لکھا ہے ۔پس جو شخص تشخیص مرض میں ہی غلطی کرے گا وہ علاج میں بھی غلطی کرے گا کیونکہ بعض امراض ایسے ادق اورباریک ہوتے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ ہی نہیں سکتا ۔ پس مسلمان اطباء نے ایسی وقتول کے واسطے لکھا ہے کہ دعائوں سے کام لے ۔مریض سے سچی ہمدردی اوراخلاص کی وجہ سے اگر انسان پوری توجہ اور درددل سے دعاکرے گاتو اللہ تعالیٰ اس پر مرض کی اصلیت کھول دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی غیب مخفی نہیں۔
پس یادرکھو کہ خداتعالیٰ سے الگ ہوکر صرف اپنے علم اورتجربہ کی بناء پر جتنا بڑا دعویٰ کرے گا اتنی ہی بڑی شکست کھائے گا۔ مسلمانوں کو توحید کا فخر ہے ۔ توحید سے مراد صرف زبانی توحید کا اقرار نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ عملی رنگ میں حقیقتاً اپنے کاروبار میں اس امر کا ثبوت دے دوکہ واقعی تم موحد ہو اور توحید ہی تمہاراشیوہ ہے ۔مسلمانوں کا ایمان ہے ۔ کہ ہر ایک امر خداتعالیٰ کی طر ف سے ہوتا ہے ۔ اس واسطے مسلمان خوشی کے وقت الحمد للہ اورغمی اور ماتم کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون (البقرۃ :۱۵۷)کہہ کر ثابت کرتا ہے کہ واقع میں اس کاہر کام میں مرجع صرف خداہی ہے جو لوگ خداتعالیٰ سے الگ ہوکر زندگی کاکوئی حظ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یادرکھیں کہ ان کی زندگی بہت ہی تلخ ہے کیونکہ حقیقی تسلی اور اطمینان بجز خدامیں محو ہونے اورخداکو ہی ہر کام کا مرجع ہونے کے حاصل ہوسکتا ہی نہیں ۔ایسے لوگوں کی زندگی توبہائم کی زندگی ہوتی ہے اوروہ تسلی یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ حقیقی راحت اورتسلی انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جوخدا سے الگ نہیں ہوتے اورخداتعالیٰ سے ہر وقت دل ہی دل میں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
سچے مذہب میں پابندیاں ہوتی ہیں
مذہب کی صداقت اس میں ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے کسی حالت میں بھی الگ نہ ہو۔ وہ مذہب ہی کیا ہے اورزندگی ہی کیسی ہے کہ تمام عمر گذرجائے مگر خداتعالیٰ کا نام درمیان کبھی بھی نہ آوے اصل بات یہ ہے کہ یہ سارے نقائص صرف بے قیدی اورآزادی کی وجہ سے ہیں اور یہ بے قیدی ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مخلوق کا بہت بڑا حصہ اس طرز زندگی کو پسند کرتا ہے ۔
آج ہی ایک کتاب ہم نے دیکھی ہے جس میں بدھ کی زندگی کے حالات لکھے ہیں ۔ اس سے معلوم