نازل فرمادی ۔ اس پر آنحضرت ﷺ اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لاکر اپنی چادر مبارک بچھا کربٹھایا ۔
اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت الہٰی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اورمتواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خداتعالیٰ کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں ولرزاں رہتے ہیں ؎
آنا عارف تراندترساں تر
کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے اسی طرح نکتہ گیر بھی ہے ۔ اگر کسی حرکت سے ناراض ہوجاوے تو دم بھر میں سب کارخانہ ختم ہے ۔ پس چاہئیے کہ ان باتوں پر غورکرو اور ان کو یاد رکھو اور عمل کرو۔ ۱؎
۹مئی ۱۹۰۸ء بمقام لاہور
(قبل نماز ظہر )
احمدی ڈاکٹروں اوراطبّا ء کیلئے خاص نصیحت
طا عون اورہیضہ وغیرہ وبائوں کا ذکر تھا۔فرمایا :۔
بدقسمت ہے وہ انسان کہ ان بلائوں سے بچنے کے واسطے سائنس ‘طبعی یا ڈاکٹروں وغیرہ کی طرف توجہ کرکے سامان تلاش کرتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ جو خداتعالیٰ کی پناہ لیتا ہے اورکون ہے جو بجز خداتعالیٰ کے ان آفات سے پناہ دے سکتا ہو؟اصل میں یہ لوگ جو فلسفی طبع یا سائنس کے دلدادہ ہیں ایسی مشکلات کے وقت ایک قسم کی تسلی اور اطمینان پانے کے واسطے بعض دلائل تلاش کرلیتے ہیں اوراس طر ح سے ان وبائوں کے اصل بواعث اوراغراض سے محروم رہ جاتے ہیں اورخداتعالیٰ سے پھر بھی غافل ہی رہتے ہیں ۔ہماری جامعت کے ڈاکٹروں سے میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں اپنے ہی علوم کوکافی نہ سمجھیں بلکہ خدا کا خانہ بھی خالی رکھیں اورقطعی فیصلے اور یقینی رائے کا اظہار نہ کردیا کریں کیونکہ اکثر ایسا تجربہ میں آیا ہے کہ بعض ایسے مریض جن کے حق میں ڈاکٹروں نے متفقہ طورسے قطعی اوریقینی حکم موت کا لگادیا ہوتا ہے ان کے واسطے خداکچھ ایسے اسباب پیداکردیتا ہے کہ وہ بچ جاتے ہیں اوربعض ایسے لوگوں کی نسبت جوکہ اچھے بھلے اوربظاہر ڈاکٹروں کے نزدیک ان کی موت کے کوئی آثار نہیں نظر آتے خداقبل ازوقت ان کی موت کی
۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۴ صفحہ ۱تا۴ مورخہ ۱۸ مئی ۱۹۰۸ئ