ہم پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں یہ سب رسول اکرم ؐ کے فیض سے ہی ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے الگ ہو کر ہم سچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اورخاک بھی نہیں ۔ آنحضرت ﷺ کی عزت اورمرتبہ دل میں اورہررگ وریشہ میں ایسا سمایا ہے کہ ان کو اس درجہ سے خبر تک بھی نہیں۔ کوئی ہزار تپسیاکرے ؟جپ کرے ۔ریاضت شاقہ اور محنتوں سے مشت استخواں ہی کیوں نہ رہ جاوے مگر ہر گز کوئی سچاروحانی فیض بجز آنحضرت ﷺ کی پیروی اوراتباع کے کبھی میسر آسکتا ہی نہیں اورممکن ہی نہیں ۔ اب جبکہ ہمارا یہ حال ہے اورایسا ایمان ہے تو پھر ان کا ہمیں کا فرودجال کہنا کیامعنے رکھتا ہے ؟
ابھی چند روز ہوئے ہمارے پاس ایک اور نیا فتویٰ چھپ کر آیا ہے جس میں ہمیں طرح طرح کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے ۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں ۔ اگر ہم خداتعالیٰ کی نظر میں مقبول ہیں تو پھر ان کے فتوے ہمیں کوئی ضرر دے سکتے ہی نہیں ۔ہمیں کافر کہنے والے خود بھی تو کفر سے نہیں بچے بلکہ ان کا کفر توبہت پکا کفر ہے ۔ان کے واسطے تولکھا جاچکا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی مسجدمیں داخل ہوتو وہ صرف دھونے سے پاک نہیں ہوسکتی بلکہ اینٹیں اکھاڑ کر نیا فرش لگایا جانے سے مسجد پاک ہوتی تھی ۔ ہمارے واسطے ایسی بات تونہیں ۔
عجیب بات یہ ہے کہ جتنے اہل اللہ گذرے ان میں کوئی بھی تکفیر سے نہیں بچا۔کیسے کیسے مقدس اورصاحب برکات تھے ۔ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ان پر بھی قریباً دوسو علماء وقت نے کفر کا فتویٰ لکھا تھا ابن جوزی جو محدث وقت تھا اس نے ان کی تکفیر کی نسبت ایک خطرناک کتاب تالیف کی اوراس کانام تلبیس ابلیس رکھا۔ سنا گیا ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا ۔ یہ تو کفر بھی مبارک ہے جو ہمیشہ اولیاء اورخداتعالیٰ کے مقدس لوگوں کے حصہ میں ہی آتا رہا ہے ۔
خاکسار اورمتواضع بنو
ہمار ااس وقت اصل مدعایہ ہے کہ ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہئیے ۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کفر سچاہی ثابت ہوجاوے ۔ انسان اگر خداتعالیٰ کے نزدیک بھی موردقہر وعذاب الہٰی ہوتو پھر دشمن کی بات پکی ہی ہوجایا کرتی ہے ۔خالی شیخیوں سے اوربے جاتکبر اوربڑائی سے پرہیز کرنا چاہئیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہئیے ۔ دیکھو۔ آنحضرت ﷺ جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اورتواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے ۔لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر قرآن شریف پڑھاکرتا تھا۔ ایک دن آپ کے پاس عمائد مکہ اور رئوسائے شہر جمع تھے اور آپ ان سے گفتگو میں مشغول تھے ۔باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہوجانے سے وہ نابینا اٹھ کر چلا گیا۔ یہ ایک معمولی بات تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ