اگر ہم خداتعالیٰ کے نزدیک کافر اور دجال نہیں ہیں تو پھر کسی کے کافر اوردجال وغیرہ کہنے سے ہمارا کچھ بگڑتا نہیں اوراگر واقع میں ہی ہم خداتعالیٰ کے حضور میں مقبول نہیں بلکہ مردودہیں توپھر کسی کے اچھا کہنے اورنیک بنانے سے ہم خداتعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے ۔
دلوں کو فتح کرو
پس تم یاد رکھو کہ نرمی عمدہ صفت ہے ۔نرمی کے بغیر کام چل نہیں سکتا ۔ فتح جنگ سے نہیں ۔جنگ سے اگر کسی کو نقصان دیا تو کیا کیا ؟چاہئیے کہ دلوں کو فتح کرو۔ اوردل جنگ سے فتح نہیں ہوتے بلکہ اخلاق فاضلہ سے فتح ہوتے ہیں ۔اگر انسان خداکے واسطے دشمنوں کی اذیتوں پر صبر کرنے والا ہوجاوے توآخر ایک دن ایسابھی آجاتا ہے کہ خود دشمن کے دل میں ایک خیال پیدا ہوجاتا ہے اور اثر ہوتا ہے اورجب وہ برکات ‘فیوض اور نصرت الہٰی کو دیکھتا ہے اوراخلاق فاضلہ کا برتائو دیکھتا ہے توخود بخود اس کے دل میں ایسا خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہی ہوتا اور خداتعالیٰ پر افتراء کرنے والا ہی ہوتا تو اس کی یہ نصرت اورتائید تو ہر گز نہ ہوتی ۔
ان لوگوں نے ہمیں ہی یہ گالیاں نہیں دیں بلکہ یہ معاملہ تمام انبیاء کے ساتھ اسی طرح چلا آیا ہے ۔آنحضرت ﷺ کو بھی کذاب ‘ساحر‘مجنون ‘مفتری وغیرہ الفاظ سے یاد کیا گیا تھا اورانجیل کھول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰؑ سے بھی ایسا ہی برتائو کیا گیا ۔حضرت موسیٰؑ کو بھی گالیاں دی گئی تھیں ۔ اصل میں تشابھت قلوبھم والی بات ہے اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یا حسرۃ علی العباد مایا تیھم من رسول الاکانوابہ یستھزء ون (یٰسٓ :۳۱)کوئی بھی ایسا سچا نہیں آیا کہ آتے ہی اسکی عزت کی گئی ہو۔ ہم کیونکر سنت اللہ سے باہر ہوسکتے ہیں ۔ بات تو آسا ن ہی تھی اور معاملہ بڑا صاف تھا۔ مگر ان منصوبہ بازوں نے معاملہ کچھ کا کچھ کردیا ہے ۔ کیا یہ سچ ہے کہ ہم نبیوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ ہم تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے آئے ہیں اور کررہے ہیں ۔ہماری کتابیں دیکھ لو ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتاہے کہ کس طرح ہمارا ہر ذرہ ذرہ خداتعالیٰ کی راہ میں فدااورقربان ہے ۔
دعویٰ نبوت کی حقیقت
باقی رہی یہ بات کہ ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔یہ نزاع لفظی ہے ۔مکالمہ مخاطبہ کے تویہ لوگ خود بھی قائل ہیں ۔ اسی مکالمہ مخاطبہ کا نام اللہ تعالیٰ نے دوسرے الفاظ میں نبوت رکھا ہے ورنہ اس تشریعی نبوت کا توہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ ہم نے ہرگز ہرگز دعویٰ نہیں کیا۔ قرآن سے برگشتہ اوررسول کریم ﷺ سے برگشتہ ہوکر نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو تو ہم واجب الفتل اورلعنتی کہتے ہیں ۔ اس طرح کی نبوت کا کہ گویا آنحضرت ﷺ کی نبوت کو منسوخ کردے دعویٰ کرنے والے کو ہم ملعون اور واجب القتل جانتے ہیں ۔