ان کی حتی المقدور اتباع کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرے ۔ مثلاً خدا تعالیٰ میں عفو ہے ۔ انسان بھی عفو کرے ۔ رحم ہے حلم ہے کرم ہے انسان بھی رحم کرے ۔ حلم کرے ۔ لوگوں سے کرم کرے ۔ خدا تعالیٰ ستار ہے ۔ انسان کو بھی ستاری کی شان سے حصہ لینا چاہیے ۔ اور اپنے بھائیوں کے عیوب اور معاصی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب کسی کی کوئی بد ی یا نقص دیکھتے ہیں جب تک اس کی اچھی طرح سے تشہیر نہ کر لیں ان کو کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ حدیث میں آیا ہے جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے خدا تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ انسان کو چاہیے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے ۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے ۔
اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھو۔
اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے ۔ سختی اور نرمی مناسب موقعہ اور مناسب حال کرے اور اگر کسی جگہ درشتی کرنی بھی پڑ جائے تو اس طرح کرے جس طرح کوئی کسی کامومور یا نائب حکم کی پابندی کی وجہ سے کرتا ہے ۔ انبیاء نے بھی بعض اوقات سختی کی ہے مگر نہ جوش نفس سے بلکہ محض خدا تعالیٰ کے حکم اور اصلاح کی غرض سے ۔
ہم نے کسی کتاب میں ایک حکایت پڑھی ہے ۔ لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کی ایک کافر سے جنگ ہوئی جنگ میں مغلوب ہو کر وہ کافر بھاگا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا تعاقب کیا اور آخر اسے پکڑا۔ اس سے کشتی کرکے اس کو زیر کر لیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ اس کی چھاتی پر خنجر نکال کر اس کے قتل کرنے کے واسطے بیٹھ گئے تو اس کافر نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اور اس سے الگ ہو گئے ۔ وہ کافر اس معاملہ سے حیران ہوا اور تعجب سے اس کا باعث دریافت کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ ہم لوگ تم سے جنگ کرتے ہین تو محض خدا کے حکم سے کرتے ہیں ۔ کسی نفسانی غرض سے نہیں کرتے بلکہ ہم تو تم لوگوں سے محبت کرتے ہیں ۔ میں نے تم کو پکڑا خدا کے لئے تھا۔ مگر جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو اس سے مجھے بشریت کی وجہ سے غصہ آگیا تب میں ڈرا کہ اگر اس وقت جبکہ اس معاملہ میں میرانفسانی جوش بھی شامل ہو گیا ہے ۔ تم کو قتل کروں تو میرا ساراساختہ پرداختہ ہی برباد ہو جاوے ۔ اور جوش نفس کی ملوین کی وجہ سے میرے نیک اور خالصاً لللہ اعمال بھی حبط نہ ہو جاویں ۔ یہ ماجرا دیکھ کر کہ ان لوگوں کا اتنا باریک تقویٰ ہے ۔ اس نے کہا کہ میں نہیں یقین کرسکتا کہ ایسے لوگوں کا دین باطل ہو۔ لہٰذہ وہ مسلمان ہو گیا۔
غرض اسی طرح ہماری جماعت کے بھی جنگ ہوتے ہیں ان میں جوش نفس کو شامل نہ کرنا چاہیے ۔ دیکھو