بیمار کو چاہیئے کہ توبہ استغفار میں مصروف ہو۔ انسان صحت کی حالت میں کئی قسم کی غلطیاں کرتا ہے ۔ کچھ گناہ حقوق اللہ کے متعقل ہوتے ہیں اور کچھ حقوق عباد کے متعلق ہوتے ہیں ۔ ہر دو قسم کی غلطیوں کی معافی مانگنی چاہیئے ۔ اوردنیا میں جس شخص کو نقصان بیجا پہنچایا ہو اس کو راضی کرنا چاہیئے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں سچی توجہ کرنی چاہیئے توبہ سے یہ مطلب نہیں کہ انسان جنتر منتر کی طرح کچھ الفاظ منہ سے بولتا رہے بلکہ سچے دل سے اقرار ہونا چاہیئے کہ میں آئندہ یہ گناہ نہ کروں گا اور اس پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے کی کوشش کرنی چاہیئے تو خدا تعالیٰ الغفور الرحیم ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اور وہ ستار ہے۔ بندوں کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے ۔ تمہیں ضرورت نہیں کہ مخلوق کے سامنے اپنے گناہوں کا اظہار کرو۔ ہاں خدا تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔۲؎ ۲۳ستمبر ۱۹۰۶ئ؁ آریہ مت کی موت کا سبب:۔ آریوں کا ذکر تھا کہ اب تو آریہ صاحبان خود ہی اقرار کرنے لگے ہیں کہ آریہ مذہب مردہ مذہب ہے اور ایک سو سال تک نیست ونابود ہوجائے گا۔ جب حضور نے پیشگوئی کی تھی کہ آریہ مذہب ایک سو سال تک دنیا سے مفقود ہوجائے گا۔تو اس وقت آریوں نے بڑا شور مچایا تھا کہ یہ مذہب ہمیشہ قائم رہے گا مرزا صاحب نے غلط کہا ہے۔ اب تعجب ہے کہ وہی آریہ صاحبان خود ہی اپنے لیکچروں اور رسالوں میں بیان فرماتے ہیں کہ آریہ مذہب مردہ ہے۔ حضور کی پیشگوئی آریہ مذہب کے متعلق فروری ۱۹۰۳ئ؁میں جب شائع ہوئی تھی کہ ایک صدی نہ گذرے گی جو اس مذہب پر موت وارد ہو جائے گی۔ تو اس وقت پنڈت رام بھجدت نے بڑے زور سے اس کی مخالفت کی تھی اور خود قادیان آکر اپنے لیکچر میں اس پیشگوئی کا ذکر کیا تھا۔ اب وہی پنڈت رام بھجدت صاحب ہیں جنہوں نے ۱۱؍ ستمبر کے اخبار پرکاش میں فرمایا ہے کہ موجودہ آریہ سماج کبھی بھی سو برس سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ نیست ونابود ہوجاوے گا اور اس کے علاوہ نئے آریہ دھر مپال صاحب نے اپنے رسالہ اندر میں آریہ سماج کی موت پر ایک مضمون لکھ دیا ہے۔ غالباً موخر الذکر صاحب اسی واسطے آریہ بنے تھے کہ آریہ مت کی موت کو ثابت کرنے میں جلدی کریں۔ غرض یہ ذکر تھا جس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ :۔