درحقیقت مشکل تویہ ہے کہ ہندوستان میں بوجہ اختلاف زبان استغفار کا اصل مقصد ہی مفقود ہوگیا ہے اوران دعائوں کو ایک جنتر منتر کی طرح سمجھ لیا ہے ۔کیانماز اورکیا استغفار اورکیا تو بہ ؟اگر کسی کو نصیحت کرو کہ استغفار پڑھا کرو تووہ یہی جواب دیتا ہے کہ میں تو استغفار کی سوباریادوسوبار تسبیح پڑھتا ہوں مگر مطلب پوچھ توکچھ جانتے ہی نہیں ۔ استغفار ایک عربی لفظ ہے اس کے معنے ہیں طلب مغفرت کرنا کہ یا الہٰی ہم سے پہلے جو گناہ سرزدہوچکے ہیں ان کے بد نتائج سے ہمیں بچاکیونکہ گناہ ایک زہر ہے اوراس کا اثر بھی لازمی ہے ۔ اورآئندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں ۔ صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا۔ توبہ توبہ کے معنے ہیں ندامت اورپشیمانی سے ایک بدکام سے رجوع کرنا ۔ توبہ کوئی براکام نہیں ہے ۔بلکہ لکھا ہے کہ توبہ کرنے والا بندہ خداکو بہت پیاراہوتا ہے ۔ خداتعالیٰ کا نام بھی تواب ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنے گناہوں اور افعال بد سے نادم ہوکر پشیمان ہوتا ہے اور آئندہ اس بدکام سے بازرہنے کا عہد کرلیتا ہے تواللہ تعالیٰ بھی اس پر رجوع کرتا ہے رحمت سے ۔ خداانسان کی توبہ سے بڑھ کر توبہ کرتا ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر انسان خدا کی طرف ایک بالشت بھر جاتا ہے تو کدا اس کی طرف ہاتھ بھر آتا ہے ۔ اگر انسان چل کر آتا ہے تو خدا تعالیٰ دوڑ کر آتا ہے ۔ یعنی اگر انسان خد ا کی طرف توجہ کرے تو اللہ تعالیٰ بھی رحمت فضل اور مغفرت میں انتہاء درجہ کا اس پر فضل کرتا ہے ۔ لیکن اگر خدا سے منہ پھیر کر بیٹھ جاوے تو خدا تعالیٰ کو کیا پروا۔ دیکھو یہ خداتعالیٰ کے فیضان کے لینے کی راہیں ہیں ۔ اب دروازے کھلے ہیں تو سورج کی روشنی برابر اندر آرہی ہے اور ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہے لیکن اگر ابھی اس مکان کے تمام دروسزے بدن کر دئیے جاویں تو ظاہر ہے کہ روشنی آنی موقوف ہو جاوے گی ۔ اور بجائے روشنی کے ظلمت آجاوے گی ، پس اسی طرھ سے دل کے دروزے بند کرنے سے تایکی ذنوب اور جرائم آموجود ہوتی ہے ۔ اور اس طرھ انسان خدا کی رحمت اور فضل کے فیوض سے بہت دور جا پڑتا ہے ۔پس چاہیے کہ توبہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو۔ بلکہ ان کے مفہوم اور معانی کو مدنظر رکھ کر تڑپ اورسچی پیاس سے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو۔ تو بہ میں ایک مخفی عہد ھی ہوتا ہے کہ فلاں گناہ میں کرتا تھا۔ اب آئندہ وہ گناہ نہیں کروںگا۔ اصل میں انسان کی خدا تعالیٰ پر دہ پوشی کرتا ہے کیونکہ وہ ستارہے بہت سے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ستاری نے ہی نیک بنا رکھا ہے ۔ ورنہ اگر خدا تعالیٰ ستاری نی فرمادے تو پتہ لگ جاوے گکہ انسان میں کیا کیا گند پوشید ہ ہیں ۔ انسان کے ایمان کا کمال : انسان کے ایمان کا بھی کمال یہی ہے تخلق باخلاق اللہ کرے۔ یعنی جو جو اخلاق فاضلہ خدا میں ہیں اور صفات ہیں ۔