غرض خداتعالیٰ سے ڈرنا اور متقی بننا بڑ ی چیز ہے خدااس کے ذریعہ سے ہزار آفات سے بچالیتا ہے بجز اس کے کہ خداتعالیٰ کی حفاظت اس کے شامل ہو ۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بلا نہیں پکڑے گی اورکسی کو بھی مطمئن نہیں ہونا چاہئیے ۔آفات توناگہانی طورسے آجاتے ہیں ۔ کسی کو کیا معلوم کہ رات کو کیا ہوگا۔ استغفار کی تلقین لکھا ہے کہ ایک بار آنحضرت ﷺ کھڑے ہوئے ۔پہلے بہت رئوے اورپھر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا۔یا عباد اللہ خداسے ڈرو آفات اوربلیات چیونٹیوں کی طرح انسان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں بجز اس کے کہ سچے دل سے توبہ استغفار میں مصروف ہوجائو ۔ استغفار اورتوبہ کا یہ مطلب نہیں جو آجکل لوگ سمجھتے بیٹھے ہیں۔ استغفر اللہ استغفر اللہ کہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا جبکہ اس کے معنے بھی کسی کو معلوم نہیں ۔ استغفر اللہ ایک عربی زبان کا لفظ ہے ۔ ان لوگوں کو توچونکہ یہ مادری زبان تھی اور وہ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سے سمجھے ہوئے تھے ۔ استغفار کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ سے اپنے گذشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا ۔ استغفار انبیاء بھی کیاکرتے تھے اورعوام بھی ۔ بعض نادان پادریوں نے آنحضرت ﷺ کے استغفار پر اعتراض کیا ہے اور لکھا ہے کہ انکے استغفار کرنے سے نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا گنہگار ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ استغفار توایک اعلیٰ صفت ہے ۔انسان فطرتاً ایسا بنا ہے کہ کمزور ی اورضعف اس کا فطر ی تقاضا ہے ۔انبیاء اس فطرتی کمزوری اورضعف بشریت سے خوب واقف ہوتے ہیں ۔ لہٰذا وہ دعاکرتے ہیں کہ یا الہٰی توہماری ایسی حفاظت کرکہ وہ بشری کمزوریاں ظہور پذیر ہی نہ ہوں ۔ غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو ۔اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خداکو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے نہ ولی کو اورنہ رسول کو ۔ کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خداکے محتاج ہیں ۔پس اظہار عبودیت کے واسطے آنحضرت ﷺ بھی اورانبیاء کی طرح اپنی حفاظت خداتعالیٰ سے مانگا کرتے تھے ۔ یہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے کہ حضرت عیسیٰؑ استغفار نہ کرتے تھے ۔ یہ ان کی بیوقوفی اور بے سمجھی ہے اور یہ حضرت عیسیٰؑ پر تہمت لگاتے ہیں ۔انجیل میں غور کرنے سے صریح اورصاف طورسے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جابجا اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا اور استغفار بھی کیا۔ اچھلا بھلا ایلی ایلی لما سبقتانی سے کیا مطلب ؟ابی ابی کرکے کیوں نہ پکارا؟عبرانی میں ایل خدا کو کہتے ہیں۔اس کے یہی معنے ہیں کہ رحم کر اورفضل کراور مجھے ایسی بے سروسامانی میں نہ چھوڑ (یعنی میری حفاظت کر )