رنگا رنگ کے خوف احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ طاعوننام ہے مری کا۔ لغت میں ہے الطاعون ـ:الموت ۔کسی کو کیا معلوم کہ خداتعالیٰ کا کیسا غضب بھڑکنے والا ہے۔خدامحفوظ رکھے ممکن ہے کہ ایسا شاید ہوکہ جس کی برداشت ہوکہ جس کی برداشت ہی نہ ہو ۔قاعدہ کی بات ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کل بھی بیان کیاتھا کہ جب کوئی عذاب اورقہر الہٰی دورہوجاتا ہے ہیضہ ہویا طاعون ‘وبا ہو یا قحط تولوگ مطمئن ہوجاتے ہیں اورجان لیتے ہیں کہ وقت جاتا رہا ۔ پھر اس طرح سے دل سخت ہوجاتے ہیں ۔مگر تمہار اکام یہ ہونا چاہئیے کہ خداتعالیٰ کے آئندہ وعدوں کو یاد کرکے ترساں ولرزاں رہو اور قبل ازوقت سنبھل جائو۔نت نئی توبہ کرتا ہے وہ نیکی کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو توبہ نہیں کرتا وہ گناہ کی طرف جاتا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرتا ہے توبہ نہ کرنے والا گناہ کی طرف جھکتا ہے اورگناہ آہستہ آہستہ کفر تک پہنچادیتا ہے۔ تمہاراکام یہ ہے کہ کوئی مابہ الامتیاز بھی تو پیدا کرو۔ تم میں اورتمہارے غیروں میں اگر کوئی فرق پایا جاوے گا تو جب ہی خدا بھی نصرت کرے گا۔ ورنہ بنی اسرائیل کی طرف دیکھ لوکہ جب ان میں اوران کے غیر میں فرق نہ پایا گیا توباوجود یکہ حضرت موسیٰؑ ان میں موجود تھے کافروں سے کیسی ذلت کی ہزیمت دلائی ۔ ان کے مقابل میں ایک کافر کی تائید کی اوران کو سزادی ۔ نبی موجود ‘کتاب موجود احکام موجود ‘بایں انہو ں نے خلاف کیا۔ آخر کافروں سے بھی شکست کھائی ۔ کافر تواحکام الہٰی سے بے خبر ہوتے ہیں ۔وہ ایسے مواخذہ کے قابل نہیں ہوتے جیسے کوئی مان کر ۔ جان پہچان کر خلاف ورزی احکام کرنے والا ۔ تقویٰ کی اہمیت اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۔ان اللہ مع الذین اتقو اوالذین ھم محسنون (النحل :۱۲۹) تقویٰ ‘طہارت اورپاکیزگی اختیار کرنے والے خداتعالیٰ کی حمایت میں ہوتے ہیں اوروہ ہروقت نافرمانی کرنے سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں ۔ آجکل دنیا کا اصول منافقانہ زندگی بسر کرنا ہوگیا ہے ۔اول اول انسان انسان سے نفاق کرتا ہے اور منافقانہ رنگ میں ہاں میں ہاں ملاتا ہے حالانکہ دلوں میں کدورت اوررنج وبغض بھراہوتا ہے ۔پھر یہ عادت ترقی کرتے کرتے ایسی بڑھتی ہے کہ خداتعالیٰ سے بھی منافقانہ تعلق کرنا چاہتا ہے اور خداکو دھوکہ دینے کی کوشش کرتاہے حالانکہ جاننا ہے کہ خداعلیم بذات الصدور ہے دل سے تو مومن ہوتا نہیں مگر خداکے آگے مومن بننا چاہتا ہے بھلا خدا کسی کے دھوکے میں آسکتا ہے ؟ہرگز نہیں۔ دیکھو تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ایک متقی انسان کی خاطر دوسروں پر بھی رحم کرتا ہے اوراس کے اہل وعیال ‘خویش واقارب اور متعلقین پر بھی اثر پڑتا ہے اوراسی طرح سے اگر جرائم اورفسق وفجور کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کا اثر بھی پڑتا ہے ۔