کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہیے اور اس پر کاربند ہونا چاہیے ۔ اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل مین پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کرکے دکھاوے اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ بیعت پھر اس واسطے اور بھی باعث عذاب ہو گی کیونکہ معاہدہ کرکے جان بوجھ اور سوچ سمجھ کر نافرمانی کرنا سخت خطرناک ہے ۔
میں خوب جانتا ہون کہ ان باتوں کا کسی دل میں پہنچا دینا میرا کام نہیں اور نہ ہی میرے پاس کوئی ایسا آلہ ہے کس کے ذریعہ میں اپنی بات کسی کے دل میں بٹھا دوں گا۔ یہ معاملہ مجھ سے ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء اسی راہ پر آئے ہیں۔ انک لا تھدی من احببت (القصص :۵۷) یہ ارشاد رسول اکرم ﷺ کو ہوتا ہے ۔اب اورکون ہے جو اپنی مرضی سے کسی کو ہدایت پر قائم کرسکے نصیحت کرنا اوربات پہنچانا ہمارا کام ہے یوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس جماعت نے اخلاص اور محبت میں بڑی نمایاں ترقی کی ہے ۔بعض اوقات جماعت کا اخلاص محبت اورجو ش ایمان دیکھ کر خو دہمیں تعجب اورحیرت ہوتی ہے اوریہاں تک کہ دشمن بھی تعجب میں ہیں ۔ ہزارہا انسان ہیں جنہوں نے محبت اوراخلاص میں توبڑی ترقی کی ہے مگر بعض اوقات پرانی عادات یا بشریت کی کمزوری کی وجہ سے دنیا کے امور میں ایسا وافر حصہ لیتے ہیں کہ پھر دین کی طرف سے غفلت ہوجاتی ہے ۔
ہمارا مطلب یہ ہے کہ بالکل ایسے پاک اور بے لوث ہوجاویں کہ دین کی طرف سے غفلت ہوجاتی ہے ۔نہ سمجھیں اورقسماقسم کی غفلتیں جو خداسے دوری اورمہجوری کا باعث ہوتی ہیں وہ دورہوجاویں ۔ جب تک یہ بات پیدا نہ ہواس وقت تک حالت خطرناک ہے اورقابل اطمینان نہیں ۔ کیونکہ جب تک ان باتوں کا ذرہ بھی وجود موجود ہے تواندیشہ ہے اورایک وبدہ لگی رہتی ہے کہ کسی وقت یہ باتیں زورپکڑ جاویں اورباعث حبط اعمال ہوجاویں ۔ جب تک ایک قسم کی مناسبت پیدا نہیں ہوتی تب تک حالت قابل اطمینان نہیں ہوتی ۔
دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد یادرکھو
موت کا کوئی وقت نہیں ۔آئے دن طاعون ہیضہ ‘زلازل ‘وبائیں ‘قحط اور اورطررح کے امراض انسان پر حملہ کررہے ہیں اور اگر یہ بھی نہ ہوں تب بھی بعض اوقات خداتعالیٰ کی ناگہانی گرفت اس طور سے انسان کو آدباتی ہے کہ پھر کچھ بن نہیں پڑتا ۔ پس ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھونگا اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کا عمدہ نمونہ پیش کرو ۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو ہر سال میں کئی دوست ہم سے جد ا ہوجاتے ہیں اورکئی دشمن بھی چل بستے ہیں ۔ خداتعالیٰ نے بعض خوفناک خبریں دی ہیں اور وہ اپنی بات میں سچا ہے ۔ ان سے اوربھی خوف آتا ہے وہ بھی بہت ہی خطرناک ہیں۔