پس جب انسان صبر سے کام لے تو اس کو سب کچھ ہی مل رہتا ہے ۔ انسان کو چاہیے جو کام کرے خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق کرے ۔ شیخ سعدی صاحب کیا عمدہ فرماتے ہیں ۔ ؎ کہ بے حکم شرع آب خوردن خطا است اگر خوں بہ فتویٰ بریزی روااست یعنی اگر تم خدا تعالیٰ کی منشاء کے برخلاف پانی پیو تو ہو گناہ ہے لیکن اگراس کے حکم کے مطابق خون بھی کردو تو وہ جائز ہے ۔ پس میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا کے سوا جس چیز کی انسان خواہش کرتا ہے ۔ نہ وہ اس کو ملتی ہے نہ خدا۔ کیونکہ اس کے سوا ہر ایک چیز فانی ہے ۔ لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کو پسند کرتا ہے ۔ اس کو خدا بھی ملتا ہے اور دوسری چیزیں بھی ملتی ہیں اور اس کی جو خواہش ہوتی ہے ۔ وہ پوری ہو کر رہتی ہے ۔ اب میں نے جو کچھ خدا کے لئے کہنا تھا وہ کہہ چکا تھا ۔ تم کو چاہیے کہ اپنے دین کی حفاظت کرو۔ ۱؎ ۴ مئی ۱۹۰۸ئ؁ بعد نماز عصر ۔ بمقام لاہور۔ جماعت کو نصیحت فرمایا:۔ ملاقات سے غرض یہی ہوتی ہے کہ امر دین کے متعلق کچھ سو چا جاوے میں بار بار اور کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ظاہر نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں ۔ تم بھی مسلمان ہو۔ وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں ۔ تم کلمہ گو ہو وہ بھی کلمہ گو ہیں ۔ تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو۔ وہ بھی اتباع قرآن ہی کے مدعی ہیں ۔ غرض دعووں میں تو تم اور وہ دونوبرابر ہو مگر اللہ تعالیٰ صرف دعووں سے خوش نہیں ہوتا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعویٰ کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو۔ اس واسطے اکثر اوقات مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ ظاہر طور سے جماعت کی تعداد میں تو بہت ترقی ہو رہی ہے کیا خطوط کے ذریعہ سے اور کیا خود حاضر ہو کر دونو طرح سے سلسلہ بیعت میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے ۔ آج کی ڈاک میںبھی ایک لمبی فہرست بیعت کنندگان کی آئی ہے ۔ لیکن بیعت ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۸ صفحہ ۱۔۲ مورخہ ۲۲اگست ۱۹۰۸ئ؁ (منقول از تشحیذ الاذہان)