کہ یا ان کی طرف جائو یا ہماری طرف تو قسم بخدا ایک منٹ کے لئے یا ایک سیکنڈ کے لئے بلکہ اس کے ہزار ویں حصے کے لئے بھی دل میں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ اس کی طرف نہ جائین اور مبارک احمد کی طرف چلے جاویں ۔ اولاد چیز کیاہے ؟بچپن سے ماں اس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں ۔ پھر اگر فرمانبرداری بھی ہو ں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کا ہٹا نہیں سکتے۔ ذراساپیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔ نہ بیٹاکام آسکتاہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز ۔ اگرکام آتا ہے تو صر ف خدا ۔ پس ان کی اس قدر محبت اور پیار سے فائد ہ کیا جس سے شرک لازم آئے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ کہ انما اموالکم واولادکم فتنۃ ( التغابن :۱۶) اولاد اور مال انسان کے لئے فتنہ ہوتے ہیں ۔ دیکھو اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری کل اولاد جو مرچکی ہے زندہ کر دیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہو گا تو کیا اگر وہ عقلمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کاخیال بھی کریگا۔ پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خڈا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے ۔ جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر برامناتا ہے وہ بخیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جو خدا تعالیٰ نے اس کے سپر د کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریائوں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ پس ایسا شخص جوخدا سے زیادہ کسی چیز کی محبت کرتا ہے اس کی عبادت نماز روزہ بھی کسی کام کے نہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کامثالی صبر حضرت ایوب ؑ کی طرف دیکھو کہ وہ کسیے صابر تھے خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآ شریف میں بھی کیا۔ ہے کہ وہ میرا ایک صابر بندہ ہے ۔ پہلی کتابوں میں ان کا ذکر بالتفصیل لکھا ہے کہ شیطان نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ ایوب کیوں صبر نہ کرے کہ اس کو تو نے مال دیا ہے ۔ دولت دی ہے ۔ غلام دئیے ہیں ۔ نوکر چاکر دئیے ہیں ۔ اولاد دی ہے ۔ بیوی دی ہے صحت دی ہے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تو اس کو آزما۔ اس پر پہلے تو اس کی بھیڑ بکریاں ماری گئیں ۔ پھر بڑے بڑ ے جانور مارے گئے مگر پھر بھی حضرت ایوب ؑ نے صبر سے کام لیا۔ اس پر شیطان نے کہا کہ ابھی اس کے پاس دولت اور غلام اور اولاد ہے وہ صبر کیوں نہ کرے ۔ اس پر اس کے غلام بھی مرگئے ۔ پھر انہوں نے صبر کیا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سب کچھ ہلاک ہو گیا۔ ایک وہ اور ان کی بیوی رہ گئیں ۔ پھر بھی شیطان نے کہا کہ ابھی ان کی صحت درست ہے اس پر ان کو جذام ہو گیا یعنی کوڑھ ہو گیا۔ پھر بھی انہوں نے صبرسے کام لیا پس جب وہ اس طرح صابر اور صادق ثابت ہوئے تو خد ا تعالیٰ نے ان کوآگے سے بھی زیادہ مال ودولت غلام لونڈیاں اور اولاد عطا فرمائی اور صحت بھی عطا فرمائی ۔