کے واسطے باندھا تاھ جواب دیا کہ ماقتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ ( النساء :۱۵۸ ‘۱۵۹) کہ یہود نے جیسا کہ ان کا زعم ہے حضرت مسیح ؑ کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس طرح سے وہ ان کو جھوٹا نبی چابت کرنے کے دعویٰ میں کامیاب ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا رفع روحانی کیا اور ان کو ایسی ذلت اور ادبار سے بچا لیا۔ اگر رفع جسمانی ہی نجات اور پاکیزگی اور مقبول اور محبوب الہیٰ ہونے کا موجب ہے تو پھر سارے ہی نبی جھوٹے ٹھہرتے ہیں ۔ اور کوئی بھی نجات یافتہ نہیں رہتا چہ جائیکہ کوئی خدا کا مقبول اور محبوب بھی ہو (نعوذ باللہ من ذٰلک ) تعصب نے ان کو کسی کام کانہیں چھوڑا ۱؎ ۱؎الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۶ صفحہ ۲ تا ۴ مورخہ ۱۴ اگست ۱۹۰۸ء بلا تاریخ خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کرنا ہی نیک بختی ہے ۔ فرمایاکہ :۔ وہ ایمان کیا ہے اگر کوئی شخص کسی چیز کو یا کسی انسان کو خدا پر مقدم کر لے ۔ جب تک ہر ایک چیز پر خدا کو مقدم نہ کیا جائے تو وہ شرک کہلاتا ہے ۔ دیکھو ہمیں دو دفعہ موقعہ پیش آیا ہے ۔ ایک دفعہ تو مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات جبکہ نہایت زور سے دعا مانگنے کے بعد الہام ہوا۔ ان المنایا لاتطیش سھامھا اور پھر بھی دعائوں کا سلسلہ جاری رہا تو الہام ہوا کہ یا یھاالناس اعبداواربکم الذی خلقکم یعنی اس شخص نے مرنا ضرور ہے اور عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اس سے دل لگائو پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں ہیچ سمجھا جائے ۔ اور جوشخص اولاد کو یا والدین کو یا کسی اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کافکر رہے تو وہ بھی ایک بت پرست ہے ۔ بت پرستی کے یہی معنے نہیں کہ ہندوئوں کی طرح بت لے کر بیٹھ جائے اور اس کے آگے سجدہ کر ے حد سے زیادہ پیار و محبت بھی عبادت ہی ہوتی ہے ۔ ہمیںتو بچپن سے اس بات کی سمجھ آگئی تھی اور اب بھی ہمارا لڑکا مبارک احمد فوت ہو گیا ہے ۔ اور اگر ایک مبارک کی جگہ لاکھ مبارک بھی آجائے اور خداتعالیٰ فرمائے