نقصان کو پہچانیں ۔ یہ اسلام کے نادان دوست اتنا نہیں سمجھتے ہیں کہ خدا تو ایسا غیور ہے کہ ان کے عقائد فاسدہ کو بیخ وبن سے اکھاڑتا اور ذرا سی دیر کے واسطے بیھ ان کے مشرکانہ اصولوں کو سن نہیں سکتا۔ قرآن شریف میں تدبر اورخوض کرنے والے جانتے ہیں کہ باطل کا سر کچلنے کے واسطے خدا تعالیٰ نے کیسے کیسے حربے اختیار کئے ہیں دیکھو۔ نصاریٰ نے مسیح کے بن باپ ہونے کو اس کی خڈا کئی کی دلیل خیال کیا تھا۔ خدا تعالیٰ نے کس طررح ان کو آدم کی نظیر پیش کر کے نادم و ذلیل کیا اور ان کے دعویٰ کو باطل کیا۔ ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم ( العمران : ۶۰) مسیح تو بن باپ تھا۔ آدم اس سے بھی بڑ ھ کر خدائی کے لائق ہے کیونکہ یہاں باپ نہ ماں دونو ندارد۔
پس یاد رکھو کہ اگر فی الواقع حضرت مسیح زندہ مع جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے اور خدا ان کی اس دلیل کی بھی سچا مانتا تو ضرور تھا کہ اس کی کوئی نظیر پیش کرکے ان کے اس باطل خیال کو بھی ملیا میٹ کر دیتا ہے ۔ مگر خدا نے ان کی اس بات کو نفی کے رنگ میں باطل کیا ہے اور یہی جواب دیا ہے کہ وہ تو مر گیا آسمان پر جانا کیسا۔ یادرکھو کہ اگر خدا کا بھی یہی منشاء ہوتا کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر ہیں تو ضرور تھا کہ بت پرستی کی اس دلیل اور باطل کے اس دیو کے سر کچلنے کے واسطے بھی کوئی نظری ہی کا حربہ چلاتا مگر خدا کے نظیر پیش نہ کرنے سے اور وفات کا جابجا ذکر کرنے سے یہ صاف عیاں ہے کہ وہ ضرور وفات پاچکا ہے ۔ اور زندہ آسمان پر نہیں ہے اور خدا نے ان کی اس دلیل کو مانا ہی نہیں ورنہ ضرور ی تھا کہ جس طرح پہلے نظیر پیش کرکے ان کو ملزم و خوار کیا یہاں بھی نظیر ی وجہ سے عیسائیت کے بت کو پاش پاش کرتا مگر خدا نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان کی اس دلیل کو ان کی وفات کے بیان سے رد کیا ہے اور درحقیقت ان کی اس حجت کا حقیقی اور اصل جواب یہی ہے کہ قرآن کا یہ منشاء ہر گز نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر آٹھا لئے گئے بلکہ وہبیھ وفات پا چکے ہیں ۔ جس طرح تمام انبیاء وفات پاگئے ہیں ۔
یہ عجیب بات ہے کہ چونکہ وہ قتل نہیں ہوئے اس واسطے آسمان پر چڑ ھ گئے ۔ کیا جو قتل نہیں کیا جاتا وہ لازماً آسمان پر چلا جاتا ہے ۔ جب تو پھر لاکھوں کروڑوں کو زندہ آسمان پر ماننا پڑے گا۔
اصل جھگڑا تو یہود کا یہ تھا کہ حضرت مسیح ؑ کا رفع روحانی نہیں ہوا۔ وہ تو اس بات کو ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ مسیح یعین اور مردود ہیں۔ اسی واسطے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دیا اوراس طرح سے ان کو قتل کرنے کے مدعی تھے تاکہ اپنی کتاب کے فرمودہ کے مطابق ان کو جھوٹا نبی ثابت کریں ۔ رفع جسمانی کے متعلق تو کوئی جھگڑا ہی نہ تھا۔ قرآن شریف چونکہ نبی اسرائیل کے متنازع فیہ امور میں حکم اور قول فیصل ہے اس نے یہود کے اس اعتراض اور بہتان کا جو انہوں نے مسیح ؑ کو لعنتی اور جھوٹا ثابت کرنے