نے مزہ نہیں چکھا۔
دیکھو آنحضرت ﷺ کے حق میں صاف لفظ ہیں ۔ اما نرینک بعض الذی نعدھم او نتو فینک ( یونس : ۱۴۷) پھر حضڑت یوسف کے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی توفی کا لفظ وارد ہوا ہے اور اس کے معنے بجز موت اور کچھ نہیں ہیں ۔ دیکھو تو فنی مسلماً والحقنی بالصالحین (یوسف :۱۰۲)
یہ حضرت یوسفؑ کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنے ہیں کہ اے خدا مجھے زندہ مع جسم عنصر ی آسمان پر اٹھا لے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں ۔ تعالیٰ اللہ عما یصفون ۔
پھر حضرت موسیٰ ؑ علیہ السلام کے مقابل میں جو ساحر فرعون نے بلائے تھے ۔ ان کے ذکر میں توفی کا لفظ مذکور ہے جہاں فرمایا ربنا افرغ علینا صبرا ً وتوفنا مسلمین ( لا عراف :۱۲۷) اب ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ خدا اور اس کے کلام کے مقابلہ میں دم مارے ۔ قرآن حضرت عیسیٰ ؑ کو سراسر مارتا ہے اور ان کے وفات پا خانے کو دلائل اور براہین قطعیہ سے ثابت کرتا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے اس کو معراج کی رات میں وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا ۔ جائے غور ہے کہ اگر حضرت عیسیٰؑ زندہ مع جسم عنصر ی آسمان پر آٹھائے جا چکے تھے ۔ تو پھران کو وفات شدہ انبیاء سے کیا مناسبت ۔ زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیسی نسبت ۔ انکے لئے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہے تھی ۔ قدتبین الرشد من الغی ( البقرۃ :۲۵۷)
کوئی گڑ بڑ نہیں اور نہ کوئی شک و شبہ اس مٰں باقی ہے ۔ مسلمان کہلا کر ایسی بات پیش کرنا جو قرآن کے خلاف اسلام کے متضاد ۔ کیا عقلمندی ہے ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف جو شخص کسی امر پر اجماع کا قائل ہے وہ کذاب ہے ۔ صوفیا ء کرام اور بعض صلحاء امت خیر الانام کا یہی مذہب تھا کہ وہ وفات پاچکے اور آنے والا اسی امت میں سے ہوگا۔ مگر تعصب ایک ایسی بلا ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتے اور باوجود جاننے کے نہیں سمجھتے ۔ باوجود کانوں کے نہیں سنتے ۔ افسوس تعصب اور ضد نے ان میں اپنے نفع نقصان کی بھی تمیز باقی نہیں رہنے دی ۔ چالیس کروڑ انسان ایک ضعیف اور ناتواں انسان کو انہی دلائل سے خدا مان رہا ہے کہ وہ ازلی ابدی ہے ۔ زندہ آسمان پر موجود ہے اور اس نے خلق طیر کیا۔ مردوں کو زندہ کیا۔ اور یہ مسلمان ہیں کہ اپنے پائوں پر آ پ کلہاڑی مارتے اور اپنی گردن کاٹنے کے واسطے خود ان کے ہاتھ میں چھری دیتے اور ان کی اس خطرناک بت پرستی میں مدد کرتے ہیں ۔ جس کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایسا غضب ظاہر کیا۔ تکار السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا ( مریم :۹۱)
ان نام کے مسلمانوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ ان کی اپنی ہی اولاد کو خود ان کے اپنے اقوال کو حجت پکڑ کر ملزم کر کے مرتد کیا جاتا ہے ۔ کاش یہ اس خواب غفلت سے بیدار ہوں اور دوست و دشمن اور اپنے نفع