دوسری آیت جو حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کے بارہ میں خصوصیت سے ذکر ہوئی ہے وہ خود حضرت عیسیٰؑ کا قول ہے جو وہ قیامت کے دن خدا کے حضور عرض کریں گے کہ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علی کل شیء شھید( المائدہ :۱۱۸) اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسیٰ کیا تو نے اس قوم کو ایسی بد راہی اور گمراہی کی تعلیم دی کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود بنالیں اور خدا ئے عزوجل واحد دیگانہ کی عبادت کو ترک کر دیں ۔ حضرت عیسیٰ ؑ کانوں پر ہاتھ دھریں گے اور قوم نصاریٰ کے گمراہ ہونے سے اپنی لاعلمی اور معذرت عرض کریں گے ۔ کہ خدا وند مجھے ان کے حالات سے اسی وقت تک اطلاع تھی جب تک کہ میں ان مٰں رہا تب تک میں نے ان کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم اس خدا کی عبادت کر و جو میرا اور تمہار ا سب کا ایک ہی خدا ہے ۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی اس کے بعد کا تو ہی نگران اور واقف حال ہے مجھے کوئی علم نہیں ۔
اب یہ بات دوحال سے خالی نہیں ۔ یا تو یہ لوگ اقرار کریں کہ واقعی قوم نصاریٰ ابھی تک بگڑی نہیں اور جو عقیدہ اتخاذولد اور تثلیث وغیرہ کا انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے یہی عین توحید اور رضا الہیٰ کاموجب اور موافق تعلیم حضرت مسیح ؑ ہے جس کا اقرار ان کی زبانی قرآن میں موجود ہے ۔ اور یا یہ لوگ اس بات کا اقرار کریں کہ در حقیقت مسیح ناصری جو کہ بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے واسطے مامور کیا گیا تھا۔ اپنی مفوضہ خدمت کو انجام دیکر بموجب حکم الہیٰ اپنی طبعی موت سے وفات پاگیا ہے ۔ اور کہ آئندہ وہ کبھی دنیا میں نہیں آسکتا بلکہ آنے والا امت محمد یہ ﷺ میں سے ہو گا جو کہ ان کی خوبو پر ہونے اور مناسب وقت اور مناسب کام کے لحاظ سے مسیح کہلائے گا۔
ظاہر ہے کہ صورت اول خدا او ر خدا کے رسول قرآن اور قرآنی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور ایسی ہے کہ اس کے ماننے کے ساتھ ہی تمام اسلام کی عمارت گرتی ہے ۔ اور صورت دوم خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق حقیقت الامر اور قرآنی تعلیم کا سچا اصول ہے اور اسی میں اسلام کی فتح کامیابی صداقت اور بزرگی کا اظہار ہے ۔ اب ان کا اختیار ہے کہ ان دونو راہوں میں سے جو راہ چاہیں اختیار کر لیں ۔
ہم علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں ۔ کہ توفی کے معنے لغت عرب میں اور کلام خدا اور رسول میں ہر گز مع جسم عنصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں ۔ تمام قرآ ن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے ۔ قرآن خدا ئے علیم وخبیر کی طرف سے علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے ۔ اس میں اختلاف ہر گز نہیں ۔ بعض آیات میں دوسرے انبیاء کے حق میں بھی واردہوا ہے ۔ تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں کئے جاتے تو پھر نہ معلوم کہ کیوں حضرت مسیحؑ کو ایسی خصوصیت دی جاتی ہے ۔ کیا ابھی تک مسیح کو خصوصیت دینے کا انہوں