اختیار میں نہیں کہ وہ عظیم الشان کام کر دکھلائیں۔ ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہواوہ آنحضرت ﷺ کی دعائوں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔ جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا۔ وہ سب آنحضرت ﷺ کی دعائوں کا اثر تھا ۔ ورنہ صحابہؓ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہؓ کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔ قوم کو چاہیئے کہ جہاں تک ہوسکتے تقویٰ اور طہارت کو اختیار کرے ۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تب ہی کچھ بن سکے گا۔۱؎ ۱۹ ستمبر ۱۹۰۶ئ؁ کوئی بیماری لاعلاج نہیں :۔ ایک بیمار حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا اوراس نے دعا کے واسطے عرض کی اور اپنی حات پر مایوسی کا اظہار کیا۔ حضرت نے فرمایا:۔ میرا مذہب یہ ہے کہ کوئی بیماری لا علاج نہیں ۔ ہر ایک بیماری کا علاج ہوسکتا ہے جس مرض کو طبیب لاعلاج کہتا ہے اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ طبیب اس کے علاج سے آگاہ نہیں ہے۔ ہمارے تجربہ میں یہ بات آچکی ہے کہ بہت سی بیماریوں کو اطباء اور ڈاکٹروں نے لا علاج بیان کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے شفا پانے کے واسطے بیمار کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال دی بعض بیمار بالکل مایوس ہوجاتے ہیں۔ یہ غلطی ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئیے اس کے ہاتھ میں سب شفاء ہے۔ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدارس والے ایک ضعیف آدمی ہیں۔ ان کو مرض ذیابیطس بھی ہے اور ساتھ ہی کاربنکل نہایت خطر ناک ہوگئی یہانتک کہ ان کی نسبت خطرہ کے اظہار کے خطوط آنے لگے۔ تب میں نے ان کے واسطے بہت دعا کی تو ایک روز اچانک ظہر کے وقت الہام ہوا آثار زندگی اس الہام کے بعد تھوڑی دیر میں مدارس سے تار آیا کہ اب سیٹھ صاحب موصوف کی حالت رو بصحت ہے۔