برمکان خواجہ کمال الدین صاحب وفات مسیح علیہ السلام کے دلائل خلیفہ رجب الدین صاحب نے سوال کیا کہ حضور بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ وفات مسیح ؑ کے کیا دلائل ہیں ۔ اس سوال کے جواب میں حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر فرمائی ۔ فرمایا:۔ حضرت عیسی ؑ کی وفات قرآن شریف میں بہت آئی ہے ۔ دو قسم کی آیات ہیں جن سے ان کا وفات پانا ثابت ہوتا ہے بعض آیا ت عام ہیں اور بعض خاص حضرت عیسی ہی کے متعلق عام طور پر تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات کے متعلق جس میں حضرت عیسٰی بھی شامل ہیں ۔ یہ آیت واضح اور کھلا بیان کرتی ہے ۔ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسول ( آل عمران : ۱۴۵) خلت کا لفظ قرآن شریف کے محاورے میں ہر گز کسی ایسے شخص کے واسطے استعمال نہیں ہواجو زندہ ہو بلکہ ہمیشہ وفات یافتہ لوگوں پر ہی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔ چنانچہ آنحضرتﷺ کی وفات کے موقعہ پر جب حضرت عمر ؓ نے جوش محبت اور وفور الفت کی وجہ سے تلوار کھینچ لی تھی اور آپ ننگی تلوار لئے گلیوں میں پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی کہے گا کہ محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں اس کی گردن ماردوں گا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس واقعہ سے خبر پاکر مسجد میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں ابتداء یہی آیت پڑھی ۔ وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ( آل عمران :۱۴۵) اس وقت صحابہ ؓ اس آیت کو سن کر رو پڑے اور یہ سمجھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اور حضرت عمر ؓ نے جن کو اتنا جوش تھ اور تلوار لئے پھرتے تھے ۔ اور ان کا یہ خیال تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ابھی وفات نہیں پائی اس خطبہ کے بعد تلوار چھوڑ دی اور پھر کبھی کوئی ایسا ذکر نہ کیا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر صحابہ ؓ میں سے کسی ایک نفس واحد کا بھی یہ اعتقاد ہوتا کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ بجسم عنصری آسمان پر ہیں تو کیوں وہ اس وقت اعتراض نہ کرتے اور کہتے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی قوم کا رسول تو زندہ ہے پر ہمارا رسول جس کو خدا نے تمام جہان کے واسطے قیامت تک کی تمام انسانی نسلوں کے لئے بلا کسی خصوصیت کے بھیجا ۔ وہ تو ستر برس تک بھی زندہ نہ رہ سکے ۔ پس صحابہ ؓ کا سکوت اور خاموشی اور کسی قسم کا اعتراض نہ کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ تمام صحابہ ؓ حضرت عیسیٰ ؑ کو دوسرے انبیاء کی طرح وفات یافتہ یقین کرتے تھے ۔ اور کسی ایک کابھی ہر گز یہ اعتقاد نہ تھا کہ وہ آسمان پر زندہ بحسم عنصری خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اور یہ اسلام میں سب سے پہلا اجماع ہے ۔