آپ ہی فرمادیں کہ کیا ااپ اس کو استعما ل کریں گے ۔ میں تو ہر گز یقین نہیں کر سکتا کہ ایک ایسا آدمی جس کو اپنی زندگی عزیز ہو اس کا ایک لقمہ بھی کھا سکے ۔ بیشک یہ سچی بات ہے کہ دہریہ ایک بے باکی کا طریق اختیار کر تا ہے مگر اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ امر اس کے واسطے مضر نہیں اور وہ بچ گیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ جس طرح ہر درخت کے پھل لانے کا ایک معین وقت ہوتا ہے اسی طرح ہر زہر کے اثر کا بھی ایک وقت مقرر ہوتا ہے ۔ بعض زہر ایسے ہیں کہ ہاتھوں ہاتھ اپنا اثر دکھا دیتے ہیں ۔ بعض گھڑی اور بعض گھنٹے بعد اور بعض کی معیاد اس سے بھی زیادہ کئی دنوں کی ہو ا کرتی ہے ۔ عقلمند انسان کو دیکھنا یہ چاہیے کہ اتنے نامی اور مشہور اوتار نیب رسول جو لاکھوں لاکھ دنیا میں آئے ۔ انہوں نے دنیا میں کیا راہ قائم کی ۔اچھا آپ ہی بتائین کہ مہذب فرقہ کے لوگ چوری چھوٹ زنا وغیرہ امو کر کسیا خیال کرتے ہیں ۔ پس اب یقین جانیں کہ خود یہ اختلاف ہی ظاہر کرتاہے ۔ کہ واقعی وہ امورجن کے اختلاف کیسا خیال کرتے ہیں ۔ پس اب یقین جانیں کہ خود یہ اختلاف ہی ظاہر کرتا ہے کہ واقعی وہ امور جن میں اختلاف کیا گیا ہے گناہ ہیں ۔ علاج مرض کا کیا جانا چاہیے ہم کہتے ہیں کہ گناہ تو ایسی چیز ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کو نہ ماننے والا بھی طبعاً اس سے نفرت کرتا ہے ۔ پس ایک صحیح الفطرت انسان خواہ اس تک آسمانی تعلیم نہ بھی پہنچی ہو۔ فطرتاً گناہ کو گناہ یقین کرتا اور قابل نفرت جانتا ہے ۔ دوم یہ کہ بعض امور جو ممنوعات میں سے ہوتے ہین وہ قانون اور باریک حکمت کے خلاف ہوتے ہیں اور خود انسان کے اپنے حق میں یا بنی نوع انسان کے واسطے بھی ان کا ارتکاب مضر ہوتا ہے ۔ مثلا ً زنا سے زانی کو آتشک سوزاک وغیرہ خطرناک امراض لاحق ہو کر دجال جان ہو جاتی ہے ۔ پس یاد رکھنا چاہیے کہ نہ خدا نے گناہ سے اس واسطے روکا ہے کہ اس میں اس کا کوئی نقصان مقصور ہے اور نہ نیکی کی اس واسطے تائید فرمائی ہے کہ اس مں اس کا کوئی فائدہ ہے بلکہ یہ اس کا رحم ہے کہ اس نے ایسے امور جو خود انسان کے اپنے ہی واسطے مضر تھے یا بنی نوع انسان کے واسطے مضر تھے ان سے روک دیا اور یہ اس کا کمال رحم ہے وہ چونکہ قدوس اور پاک ہے ۔ اس کی قدوسیت اور پاکی کا تقاضا ہے کہ دنیا میں نیکی پھیلے ۔ ورنہ انسان اگر بے قید ہو کر بدی اور گناہ کرے گا اور ممنوعات شرعیہ کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی خود ہی برداشت کرے گا۔ خداتعالیٰ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ۔ ۱؎ ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۶ صفحہ ۲تا۴ مورخہ ۶ اگست ۱۹۰۸ئ؁