دیتا ہے ۔ گناہ سوز حالت جب ہی پیدا ہو تی ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے جلال اور ہیبت کو دنیا میں ظاہر کر تا ہے اور جب اس کے جبروت وسطوت کا دورہ ہو کر دنیا پر ایک قہری تجلی ہوتی ہے اور جس طرح ایک خطرناک بجلی ہمیں ایک خوفناک کڑک اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چمک ہو تی ہے ۔ دلوں پر اپنا تسلط اور رعب بٹھا جاتی ہے ۔ اسی طرح اس مامور کے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی جلالی صفات جلوہ گر ہو کر دنیا مین ایک پاک تبدیلی پیدا کرتا ہے ۔ دیکھئے اگر آپ کے پاس ایک آدمی نہایت ہی ردی اور خستہ حالت میں آوے خواہ وہ در حقیقت بادشاہ ہی کیوں نہ ہو آپ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ اور آپ اس کے آنے کی کچھ پرواہ نہ کریں گے ۔ بلکہ اگر وہ کچھ کہنا چاہے گا تو آپ حقارت سے اس کی بات کی طرف بھی متوجہ نہ ہوں گے۔ مگر اگر وہی شخص اپنی شاہانہ شان و شوکت اور سلطانی جلال اور ہیبت لے کر آوے ۔ تو آپ کو استقبال بھی کرنا پڑے گا۔ عزت و عظمت بھی کرنی پڑے گی ۔ اور ضرور ہے کہ اپ ہمہ تن گوش ہو کر اس کے احکام کی بجا آوری کے لئے تیار ہو جائیں۔ پس یہی حال خدا تعالیٰ کی معرفت کا ہے ۔ جب تک کسی کو خدا تعالیٰ کی معرفت ہی نہیں وہ تذلل اور انکسار جو عبادت کا خلاصہ ہے کیسے بجا لا وے گا۔ سچ ہے ۔ ٓآناں کہ عارف تراند ترساں تر میں نے آپ کو یہ سب کچھ قصے کہانیاں کے رنگ میں نہیں سنایا بلکہ عذاب بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح کہ وید توریت اور انجیل کے زمانہ میں تھا اور خدا اسی طرح اب بھی سنتا ہے جیسا کہ پہلے زمانوں میں سنتا تھا اور اسی طرح اب بھی بولتا ہے جس طرح ان زمانوں میں بولا کرتا تھا اور اسی بات کے ثابت کرنے کے واسطے ہم آئے ہیں ۔ گناہ کی حقیقت۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اتنی تقریر فرماچکے تھے کہ سوال کیا گیا کہ بعض لوگ ایک امر کو گناہ یقین کرتے ہیں حالانکہ ایک دوسرے ملک یا خود اسی ملک کے بعض لوگ اسی امر کو گناہ نہیں مانتے یا ثواب یقین کرتے ہیں ۔ تو اب ان میں امر فیصل کیا ہے ۔ فرمایا:۔ آپ کے بیان میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کم از کم اختلاف تو ہے ۔ پس اسی اختلاف میں ہی ہماری فتح ہے ۔ ایک مومن اور محتاط انسان کی شان سے یہ بالکل بعید ہے کہ وہ مختلفہ امور کو اختیار کرے ۔ مثلاً آپ ہی کے سامنے ایک کھانا رکھا جاوے ۔ اتنے میں کوئی شخص آپ کو یہ بتادے کہ اس کھانے میں زہر کا احتمال ہے ۔اب