پس یاد رکھو کہ جس قدر کسی کا یقین بڑھا ہوا ہوگا اسی قدر وہ گناہ سے اجتناب کرتا ہوگا۔
بظاہر نظرتو گناہ سے بچنے والے اوراس قسم کا دعویٰ کرنے والے بہت ہوں گے مگر ان کی مثال وہی ہے جس طرح ایک پھوڑا جوکہ پیپ سے خوب بھر گیا ہو ظاہر ی جانب سے چمک اٹھتا ہے اور باقی حصہ جسم سے بھی اس کی چمک دمک اور روشنی بڑھی ہوئی نظر آتی ہے ۔ مگر اندر اس کے پیپ اور گندہ مواد بھرے ہوتے ہیں ۔گناہ سے بچنے کے آثار بھی تو ساتھ ہوں۔ روشنی دھوپ اور گرمی اس بات کے شاید ہیں کہ آفتاب نکلا ہوا ہے ۔ مگر جو شخص کہ رات کے وقت کہتا ہے کہ آفتاب چڑھا ہوا ہے ۔ حالانکہ آفتاب کے آثار نہیں ۔ اب بتائو کہ کوئی اس کی بات کو باور کرے گا۔ ہر گزنہیں ۔ پس یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں ۔حالانکہ اس پر ایمان کے آثار یعنی گناہ سے بکلی نفرت اور پھر اس کے آثار کہ خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات اور تائیدات اور سچی پاکیزگی تقویٰ اور طہارت ان میں منقود ہوتے ہیں ۔ یہ بات کہ انسان خدا تعالیٰ کی رضا کے خلاف کاموں سے بالکل دست کش ہو جائے اور گناہ اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی اسے آگ کھانے سے بھی بدتر نظر آوے اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی دنیوی جاہ وجلال کا رعب داب اس پر اثر نہ کرے بلکہ یہ ماسویٰ اللہ کو بجز ارادہ الہیٰ کسی کے نفع اور ضرر پہنچانے میں ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح سمجھے اور ایسا ہو جاوے کہ اس کا سکون اور اس کی حرکت اور اس کے تمام افعال خدا تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہو جاویں اور یہ اپنے آپ سے فنا ہو کر خد ا میں محو ہو جائے ۔
گناہ سوز حالت پیدا کرنے کے لئے مامور کی ضرورت
یہ تمام امور انسانی طاقت سے بالاتر ہیں ۔ انسان کی اپنی طاقت نہیں کہ ان سب فضائل کو حاصل کر سکے اور تمام رذائل سے بکلی پاک ہوسکے ۔ سو اس غرض کے واسطے اللہ تعالیٰ کا یہ ہمیشہ سے قاعدہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک انسان کو مامور کر کے بھیجا کرتا ہے اور اپنے عجائبات قدرت اس کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے ۔ اس کی دعائیں قبول کر کے اس کو اطلاع دیتا ہے ۔ اس پر مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے ۔ اور اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے خارق عادت معجزات اور غیبی امور ظاہر کرتا ہے جن سے سفلی خیالات کے انسان عاجز ہوتے ہیں اور ایسے چمکتے ہوئے اور ہیبت ناک امور اس کی تائید میں ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کے دل نور عرفان اور لذت یقین سے پر ہو کر گویا خدا کو دیکھ لیتے ہیں ۔ اور اس طرح سے خداتعالیٰ کی عظمت اور جبروت سطوت اور ہیبت کے نظارہ کرنے سے ان کے دلوں میں سے غیراللہ اور تمام گندی اور نفسانی خواہشات جو گناہ کا مبداء ہوتی ہیں جل جاتی ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا جلال اور کبریائی ان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ غرض اس طرح سے وہ ایک جماعت پاک دل انسانوں کی تیار کر