میں کسی کو شریک نہ کرنا اورذکر اللہ میں لگے رہنا اس کے اوامر کی تعمیل اورنواہی سے اجتناب کرنا اس کے محرمات سے بچتے رہنا وغیرہ ۔
حق العباد کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی یہ ظلم نہ کرنا اور کسی کے حقوق میں دست اندازی نہ کرنا جہاں اس کا حق نہیں ہے ۔جھوٹی گواہی نہ دینا وغیرہ ۔
اب یہ دونو امرایسے مشکل ہیں کہ تمام گناہ جرائم معاصی اور دوسری طرف تمام نیکیوں کے اصول اسی میں آگئے ہیں۔ کہنے کو توہر ایک کہہ لیتا ہے کہ میں اپنی قوت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں مگر انسان فطرت سے الگ ہرگز نہیں ہوسکتا ۔فطرت انسانی کسی کپڑے کا دامن توہے نہیں کہ پلید ہواتو کاٹ کر الگ کردیا جاسکے ۔ فطرت روح کا پیدائشی جزو ہے ۔ پس جبکہ انسانی فطرت میں ہی یہی رکھا گیا ہے کہ انسان انہی امور سے خائف ہوتا اورپرہیز کرتا ہے ۔جن کو وہ اپنی ہلاکت کا باعث اورمضریقین کرتا ہے ۔کسی نے کوئی نہ دیکھا ہوگا کہ سڑ کینا کو باوجود کنیا تسلیم کرنے کے وانستہ استعمال کرے یا سانپ کوسانپ یقین کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے یا ایک طاعون زدہ گائوں میں جہاں موتاموتی کابازار گرم ہے خواہ مخواہ جاگھسے ۔اس اجتناب اور پرہیز کی وجہ کیا ہے ۔یہی کہ ان باتوں کو وہ مہلک یقین کرتا ہے ۔
گناہ سے بچنے کا راز
پس انسان معاصی اورجرائم کی مرض سے تب ہی نجات پاسکتا ہے کہ اسے چوراورسانپ وغیرہ سے بڑھ کر ان کے مضر اور نقصان دہ ہونے کا یقین ہو اورخداکا جلا ل اس کی عظمت اورجبروت ہر وقت اس کے مدنظر ہو۔ انسان اپنی حرص و خواہش اوردلی آرزوئوں کو بھی ترک کرسکتا ہے ۔مثلاً ایک ذیا بیطس کا مریض جس کو ڈاکٹر کہدے کہ شیر ینی کا استعمال بالکل ترک کردو ۔ پھر اپنی جان کی خاطر میٹھے کو چھوتا بھی نہیں ۔پس یہی حال روحانی حرص وہوا اور خواہشات نفسانی کا ہے ۔ اگر خداتعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال سچے طور سے اس کے دل میں گھر کرچکا ہوتو پھر اس کی نافرمانی کو آگ کے کھانے سے اور موت سے بھی بدتر محسوس کرے گا۔
انسان کو جس قدر خداتعالیٰ کے اقتدار اورسطوت کا علم ہوگا اور جس قدر یقین ہوگا کہ اس کی نافرمانی کرنے کی سخت سز اہے اسی قدر گناہ اورنافرمانی اور حکم عدولی سے اجتناب کرے گا۔ دیکھو بعض لوگ موت سے پہلے ہی مررہے ہیں ۔یہ اخیار ابدال اوراقطاب کیا ہوتے ہیں ؟اوران میں کیا چیز زائد آجاتی ہے ؟وہ یہی یقین ہوتا ہے ۔ یقینی اورقطعی علم ضرورتاً اورفطرتاً انسا ن کو ایک امر کے واسطے مجبور کردیتا ہے ۔ خداتعالیٰ کی نسبت ظن کفایت نہیں کرسکتا ۔شبہ مفید نہیں ہوسکتا ۔ اثر صرف یقین ہی میں رکھا گیا ہے ۔خدتعالیٰ کی صفات کا یقینی علم ایک ہیبت ناک بجلی سے بھی زیادہ اثر رکھتا ہے ۔اسی کے اثر سے تویہ لوگ سرڈال دیتے اورگردن جھکا دیتے ہیں۔