طرح وہ بھی ہلاک ہوجائے گا جس نے بھوک کے وقت ایک دانہ دیکھ لیا یا کھالیا اور ایک قطرہ شدید پیاس کے وقت دیکھ لیا یا پانی بھی لیا ہو ۔ پس بعینہٖ اسی طرح سے معرفت کامل ہی موجب نجات ہوسکتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ان محسوسات میں بھی کامل علم اور معرفت ہی کا اثر ہوتا ہے ۔ ایک انسان کے پاس خواہ ایک شیر یا بھیڑیا آجاوے مگر جب تک وہ شیر کو شیر اوربھیڑیئے کو بھیڑیا بمع ان کے تمام لوازم اورخواص کے یقین نہیں کرلیتا ان سے کوئی خوف نہیں کرتا۔ ایک زہریلے سانپ کو جوانسان ایک چوہا یقین کرتا ہوگا وہ اس کے ہرگز گریز اورپرہیز نہ کرے گا مگر اس علم کے ساتھ ہی کہ ایک زہر یلا سانپ ہے اوراس کا کاٹنا گویا پیغام اجل ہے ۔وہ اس سے خوف کرے گا اورمعاً الگ ہوجاوے گا ۔
عقیدہ کفارہ
دیکھو نفس امارہ انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اورخون کی طرح انسان کے ہر رگ وریشہ میں اورذرہ ذرہ میں داخل ہے ۔عیسائیوں نے تو ایک سہل اور آسان راہ نکال لی ۔ایک شخص کو سولی پر چڑھادیا ۔ اب قیامت تک عیسائی نسل کا ہر فرد جو چاہے سوکر ے اس سے کوئی سوال ہی نہیں ہوگا۔ خون مسیح ان کے تمام گناہوں کا کفارہ ہوچکا ہے ۔نادان نہیں سمجھتے کہ زید کے تو سردرد ہے بکرنے اٹھ کر اپنے سرمیں پتھر مارلیا۔ بھلا زید کو اس سے کیافائدہ ؟میں یقینا کہتا ہوں کہ ایک بیمار کو مرغ کی یخنی جس قدر فائدہ پہنچاسکتی ہے ان کا کفارہ اورخون مسیح اس قدر بھی مفید نہیں ہے ۔ ان کے پادری جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں خود ان کے اپنے حالات نہایت ہی خطرناک ہیں ۔کفارہ کے عقیدہ نے ان کو بہت دلیر کردیا ہے ۔ گناہ ایک خطرناک زہر ہے مگر جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ خون مسیح کافی ہے اور کفارہ پر ایمان لے آنا تمام گناہوں کے واسطے کفارہ ہوجاتاہے وہ گناہ کے زہر کو زہر یقین کرے توکیسے ؟
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پادری زنا کے جرم میں پکڑا گیا۔ عدالت میں جب اس سے سوال ہواتوا س نے بڑی دلیری اورجرأت سے کہا کہ مسیح کا خون میرے واسطے کافی نہیں ہوچکا ہے ؟غرض ان کا کفارہ ہی تمام بدیوں کی جڑ ہے ۔
ہمارے نزدیک کوشش کرکے انسان جب تک ایک پاک تبدیلی کی طرف نہیں جھکتا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا ۔نفس امارہ کا مغلوب کرنا بہت بڑا بھاری مجاہد ہ ہے۔ اسی نفس امارہ ہی کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے انسان نہ حق اللہ کو اداکرسکتا ہے اورنہ حق العباد سے سبکدوش ہوسکتا ہے ۔
حق اللہ اور حق العباد
شریعت نے دوہی حصے رکھے ہیں ۔ ایک حق اللہ اور دوسراحق العباد ۔حق اللہ کیا ہے ؟یہی کہ اس کی عبادت کرنا اور اس کی عبادت