اور کسی کا نہیں ۔ طہمین کی علامات دوسرابڑابھاری نشان اس شناخت اورتمیز کا یہ ہوتا ہے کہ جس انسان سے خداتعالیٰ کلام کرتا ہے وہ خالی نہیں ہوتا بلکہ اس میں بھی خدائی شان جلوہ گر ہوتی ہے اوروہ بھی ایک گونہ خدائی صفات کا مظہر اورجلو ہ گاہ ہوتا ہے ۔ اس میں وہ لوازم پائے جاتے ہیں ۔اس میںایک خاص امتیاز ہوتا ہے ۔علوم غیبی جو سفلی خیالات کے انسانوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتے وہ ان کو عطا کئے جاتے ہیں ۔ اس کی دعائیں قبول کرکے اس کو اطلاع دی جاتی ہے اور اس کے کاروبار میں خاص نصرت اور مدد کی جاتی ہے اورجس طرح خداہب پر غالب ہے اور اس کو کوئی جیت نہیں سکتا۔ اسی طرح انجامکار وہ بھی غالب اور ہر طرح سے مظفر ومنصور اورکامیاب وبامراد ہوجاتے ہیں ۔ غرض یہ نشان ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عقلمند انسان کو ضرورتاً ماننا ہی پڑتا ہے کہ خدابھی ضرور ہے ہمیں ایسے لوگوں سے بھی گفتگو اورملاقات کا اتفاق ہوا ہے جو مصنوعات سے ضائع کو پہچاننے اور شناخت کرنے کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس طریق کو ہم نے آزمایا بھی ہے ۔ مگر یادرکھو کہ یہ راہ ٹھیک نہیں ادھوری ہے ۔اس راہ سے انسان کو حقیقی معرفت اوریقین کامل جو انسان کی عملی حالت پر اثر ڈال سکے ہر گز ممکن نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بس یہی ہوتا ہے کہ خداہونا چاہئیے ۔ مگر ہے اورہونا چاہئیے میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔ معرفت کا ملہ اس بیان سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ معرفت بھی وہی فائدہ بخش ہوسکتی ہے جس سے انسان میں ایک تبدیلی بھی پیدا ہو۔ ایک شخص جوبینائی اورقوت رئویت کا دعویٰ کرے مگر اس کے دعوے کے ساتھ کوئی عملی ثبوت نہ ہو اور وہ کھڑا ہوتے ہی دیواروں سے ٹکریں کھائے کیا اس کا دعویٰ قابل پذیرائی ہوسکتا ہے ؟ہرگزنہیں ۔ کارآمد صنعت کمال ہی ہے ۔ نیم ملاں خطرہ ایمان اورنیم حکیم خطرہ جان مشہور مقولے ہیں ۔ پس کامل معرفت کی تلاش کرنا شرط ہے اوروہ اس راہ سے میسر آسکتی ہے جو راہ انبیاء دنیا میں لائے ۔ ایک دہر یہ تو وہ ہے جو صانع کے وجود کا منکر ہے اوریہ گروہ قدیم سے ہے مگر میں کہتا ہوں فرض کرلو کہ دنیا میں ایسا ایک بھی متنفس نہیں تو بھی ہر وہ جس کوکامل معرفت نہیں وہ بھی دہریہ ہے ۔جب تک کامل معرفت نہ ہو اس وقت تک کچھ نہیں ۔ جس طرح ایک دانہ بھوک کو اورایک قطرہ پیاس کو نہیں مٹاسکتے اسی طرح خشک ایمان جس کے ساتھ کمال معرفت اپنے تما لوازم کے ساتھ نہیں نجات نہیں دلاسکتا ۔ جس طرح وہ انسان زندہ نہیں رہ سکتا جس کو بھوک کے وقت کھانا اور پیاس کے وقت پانی دیکھنا تک بھی نصیب نہیں ہوا۔اسی