۳ مئی ۱۹۰۸ئ
بروز اتوار۔ بمقام لاہور برمکان ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب
خدا تعالیٰ کو شناخت کرنے کا طریق ایک دہریہ سے ملاقات کے دوران فرمایا:۔
طبائع میں اختلاف ہوتا ہے ۔ بعض طبائع میں ایسی استعداد ہوتی ہے کہ وہ حق کے قبول کرنے میں جلدی کرتی ہیں اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ حق ان کی سمجھ میں تو آجاتا ہے ۔ مگر دیر بعد اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان میں قبول حق کی استعداد دبتے دبتے ایک وقت بالکل زائل ہی ہوجاتی ہے ۔خداتعالیٰ جس کا وجود مخفی درمخفی اور نہاں درنہاں ہے ۔ ہم نے اس کو ایسا نہیں مانا کہ وہ ایک ہیولیٰ ہے ۔ ایسا ایک انسان جس کو سچا شوق ‘حقیقی جوش اوردلی تڑپ ہے کہ وہ خداتعالیٰ کو پہچانے ۔اس کے لئے تمام گذشتہ قصص اور واقعات پر نظر ڈال کر غور کرنا ازبس مفید ہوسکتا ہے ۔ تاریخ ایسے انسان کے واسطے رہبری کرسکتی ہے ۔تاریخ اورتمام واقعات سلف بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں بتاتے کہ خداکو خداکے عجائبات قدرت اورتصرفات سے جوکہ وہ بذریعہ اپنے الہامات ‘وحی اور مکالمات دنیا پر ظاہرکرتا ہے پہچان سکتے ہیں ۔ اس راہ سے بڑھ کر اورکوئی یقینی راہ خداتعالیٰ کی شناخت کی ہر گز نہیں ہے ۔ جن لوگوں کو وہ خاص کرلیتا ہے اورحصہ معرفت ان کو عطاکرتا ہے ان پر وہ مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے ۔ مشتاق کی تسلی اور تسکین کے لئے دیدار یا گفتار دوہی چیزیں ہیں ۔ جہاں دیدار نہیں ہوسکتا وہاں گفتاردیدار کی جابجا اورقائم مقام ہوجاتی ہے ۔ ایک مادرزاونا بینا گفتارہی کے ذریعے شنا سائی کرسکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ چونکہ غیر محدود ہے اوراس کی ذات ایسی نہیں کہ اس کی رئویت اوردیدارجسمانی چیزوں کی طرح ہو سکے ۔ اس واسطے اس نے اپنی گفتار جس کو بالفاظ دیگر الہام ‘وحی ‘مکالمات کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ‘دیدار کے قائمقام رکھ دی ہے ۔کم ہیں جن کودیدار ہوتا ہو۔ اکثر گفتار ہی کے ذریعہ تسلی پاتے اورطمانیت حاصل کرتے ہیں۔
کلام اللہ کا امتیاز
اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھلا یہ کیونکر معلوم ہوکہ وہ گفتار جو انسان سنتا ہے واقعی خداکا کلام ہے کسی اور کا نہیں ۔ سواس کے لئے یادرکھنا چاہئیے کہ خداتعالیٰ کے کلام کے ساتھ خدائی طاقت ‘جبروت اورعظمت ہوتی ہے جس طرح تم لوگ ایک معمولی انسان اور بادشاہ کے کلام میں فرق کرسکتے ہو اسی طرح اس احکم الحاکمین کے کلام میں بھی شوکت وسطوت سلطانی ہوتی ہے جس سے شناخت ہوسکتی ہے کہ واقعی یہ کلام بجزخدائے عزوجل کے