سے انسان سچا مسلمان ہو جاوے ۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں الہاماً یہ فرمایا۔ ؎ چو دور خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلماں باز کردند یہ خدا کا کلام ہے ۔ آجکل اگر عمیق نظر سے اور غور سے دیکھا جاوے تو زبانی ایمان ہی کثرت سے نظر آوے گا۔ پس خدا کا یہی منشا ء ہے کہ لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا جاوے ۔ یہودی کیا توریت پر نہ کرتے تھے ۔ مگر خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت بھیجی اور کہا کہ تم مومن نہیں ہو بلکہ بعض نمازیوں پر بھی لعنت بھیجی ہے جہاں فرمایا ہے ۔ ویل للمصلین الذین ھم عن صلاتھم ساھون ( الماعون :۵‘۶) یعنی لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ صلٰوۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الہٰی اور خواف الہیٰ کی آگ میں پڑ کر آپنے آپ سے جل جانے اور ماسویاللہ کو جلا دینے کانام ہے اور اس حالت کانام ہے کہ صرف خدا ہی خدا اس کی نظر میں رہ جاوے اور انسان اس حالت تک ترقی کر فاوے کہ خدا کے بلانے سے بولے اور خدا کے چلانے سے چلے ۔ اس کی کل حرکات اور سکنات اس کا فعل اور ترک فعل سب اللہ ہی کی مرضی کے مطابق ہو جاوے خود دور ہو جا وے ۔ غرض یہ باتیں ہیں اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو مگر جب تک خدا کسی کے دل کے دروازے نہ کھولے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ دلوں کے دروازے کھولنا خدا تعالیٰ ہی کاکام ہے ۔ اذا اراداللہ بعبد خیرا اقام واعظا فی قلبہ۔ جب انسان کے اچھے دن آتے ہیں اور کدا تعالیٰ کو انسان کی دوستی اور بہتری منظور ہو تی ہے تو کدا انسان کے دل میں ہی ایک واعظ کھڑا کر دیتا ہے ۔ اور جب تک خود انسان کے اندر ہی وعظ پیدا نہ ہو ۔ تب تک بیرونی وعظوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ مگر وہ کام خدا کا ہے ۔ ہمارا کام نہیں ہے ہمارا کام صرف بات کا پہنچادینا ہے ۔ ماعلی الرسول الا البلاغ ( المائدۃ:۱۰۰)تصرف خدا کا کام ہے ۔ ہم اپنی طرف سے بات کاپہنچا دینا چاہتے ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم پوچھے جاویں کہ کیوں اچھی طرح سے نہیں بتایا ۔ اسی واسطے ہم نے زبانی بھی لوگوں کو سنایا ہے ۔ تحریری بھی اس کا م کو پورا کر دیا ہے ۔ دنیا میں کوئی کم ہی ہو گا جو اب بھی یہ کہدے کہ اس کو ہماری تبلیغ نہیں پہنچی یا ہمارا دعویٰ اس تک نہیں پہنچا ۱؎ ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۹ صفحہ ۵تا ۷ مورخہ ۱۸ جون ۱۹۰۸ئ؁