اصل میں بہت سے عرب دہر یہ تھے جیسا کہ قرآن شریف کی آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے ۔ان ھی الاحیا تنا الدنیا نموت ونحیا (المومنون :۳۸)کیا عرب جیسے اجڈ اوربے باک ‘بے قید ‘بے دھڑک لوگ تلوار سے آپ نے سیدھے کئے تھے ۔اوران کی آپ کی بعثت سے پہلی اورپچھلی زندگی کا عظیم الشان امتیاز اور فرق اس وجہ سے تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی تلوار کا مقابلہ نہ کرسکے تھے ؟یا کیا صرف ساوہ اورنرمی اخلاقی تعلیم تھی جس سے ان کے دلوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا ہوگئی تھی ؟نہیں ہرگز نہیں ۔یادرکھو کہ تلوار انسان کے ظاہر کو فتح کرسکتی ہے مگر دل کبھی تلوار سے فتح نہیں ہوتے ۔بلکہ وہ وہ انوار تھے جن میں خداکا چہر ہ نظر آتا تھا اورآنحضرت ﷺ نے ان کو ایسے ایسے خارق عادت نشانات دکھائے تھے کہ خود خداان لوگوں کے سامنے آموجود ہواتھا اورانہوں نے خداتعالیٰ کے جلال اورجبروت کو دیکھ کر گناہ سوززندگی اورپاک تبدیلی اپنے اندر پید اکرلی تھی۔
خداتعالیٰ پر زندہ ایمان پیدا کرنے کی ضرورت
اب پھر وہی وقت ہے اورویسا ہی زمانہ ۔پس اس وقت بھی خداکی ہستی کا یقین اسی ذریعہ سے ہوگا جس ذریعہ سے ابتداء میں ہواتھا ۔ اسلام وہی اسلام ہے لہذا اس کی کامیابی اور سرسبزی کے بھی وہی ذریعے ہیں جو ابتداء میں تھے۔ اب بھی ضرورت ہے تو اس بات کی کہ خد ا کے چہرہ نما ہیبت ناک اقتداری نشانات ظاہر ہوں اور یقین جانو کہ کوئی شخص گناہ سے پاک نہیں ہو سکتا۔ جب تک خدا تعالیٰ کی معرفت کامل نہ ہو۔ یہ گناہ اور طرح طرح کے معاصی جو چاروں طرف دیا میں بھرے پڑے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے صرف خشک ایمان کافی نہیں ۔ کیا وہ خوف خدا جیسا کہ چاہیے دنیا میں موجود ہے ۔ نہیں ہر گز نہیں ۔ اصل میں انسان نفس امارہ کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے ۔ جیسے کوئی چڑیا کا بچہ ایک شیر کے پنجے میں ۔ جب تک اس نفس کے پنجے سے نجات نہ پا جاوے تب تک تبدیلی محال ہے اور گناہ سے بچنا مشکل ۔ مگر دیکھو اگر ابھی ایک ہیبت ناک زلزلہ آجاوے اور درودیوار اور مکان کا چھت لرزنے لگے تو دلوں پر ایک ایسی ہیبت طاری ہو گی اور ایسا خوف دلوں پر چھا جائے گا کہ اس وقت گناہ کا خیال تک بھی دلوں میں نہ رہے گا۔ ایک خطرناک مہلک مرض کے وقت جو حالت انسان کی ہوتی ہے ۔ وہ امن اور آرام و آسائش کی زندگی میں ہر گز ممکن نہیں ۔
انسان اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنے کے واسطے خدا تعالیٰ کی تجلیات اور زبر دست نشانوں کا محتاج ہے۔ ضروری ہے کہ خدا کوئی ایسی راہ پیدا کردے کہ انسان کا ایمان خدا تعالیٰ پر تازہ اور پختہ ہو جاوے اور صرف زبان تک محدود نہ رہے بلکہ اس ایمان کا اثر اس کی عملی حالت پر بھی ظاہر ہو جاوے اور اس طرح