کو پہلے سے خبردار کرتی ہے۔ یہ عیسائیوں کے مشن ہی ہیں جو کہ اس زمانہ میں ناخنوں تک زور لگا رہے ہیں کہ اسلام کو سطح دنیا سے نابود کردیں۔ اسلام کے واسطے یہ سخت مضر ہورہے ہیں اورباوجود ایسے سخت صدمات دیکھنے کے پھر خیالی اور وہمی باتوں کے پیچھے پڑنا اور دجال کو کسی اور جگہ تلاش کرنا سخت غلطی میں داخل ہے ہمارے سامنے تو ایک ایسا خطرناک دجال موجود ہے کہ اس کی نظیر پہلی امتوں میں موجود نہیں۔ کوئی انسانی طاقت اور ہاتھ اس کو زیر نہیں کرسکتا۔ ہاں خدا کے ہاتھوں سے یہ کام ہوگا۔ یہ کام جو ہمارے درپیش ہے اور جس کاہم نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم کسر صلیب کے واسطے آئے ہیں۔ یہ ہمارے واسطے کوئی تھوڑا سا غم نہیں ۔ کیوں کہ ہمارا اصل کام پورا نہ ہوتو پھر معجزات اور کرامات بھی کوئی شئے نہیں۔ ایک طبیب اگر بیمار کا علاج نہیں کرسکتا اور بازی اچھی لگا لیتا ہے تو یہ امر اس کی طبابت کے دعویٰ کو مفید نہیں ہوسکتا۔ پس ہم کو بڑا غم جو دامنگیر ہے وہ یہی ہے کہ کسر صلیب کا کام پورا ہوجائے۔ دوسرا پہلو غم کا اندرونی ‘قوم کے متعلق ہے جو سیدھی بات کو الٹا سمجھتے ہیں اور دوست کو دشمن خیال کرتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہماری دشمنی کی خاطر آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی دشمنی کرتے ہیں اور جو بات آنحضرت ﷺ کے حق میں تائیدی ثبوت ہو وہ اگر ہم میں پایا جاوے تو اس ثبوت سے بھی انکار کرجاتے ہیں۔ مثلاً قرآن شریف کی یہ آیت کہ اگر رسول خدا تعالیٰ پر اپنی طرف سے کوئی بات بناتا تو فوراً ہلاک کیا جاتا۔ یہ آنحضرت ﷺ کی صداقت پر ایک بڑی دلیل ہے کہ دعویٰ نبوت کیساتھ آپ تئیس سال تک کامیاب ہی ہوتے چلے آئے۔ بہت سے اکابر نے اس دلیل کو کفار کے سامنے پیش کیا ہے۔ مگر اب چونکہ یہ دلیل ہمارے سلسلہ کی بھی تائید کرتی ہے۔ اس واسطے اس سے قطعاً انکار کر بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کوئی دلیل ہی نہیں ۔ مفتری بڑی مہلت پاسکتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دلیل تو ہے مگر آنحضرت ﷺ کے واسطے خاص ہے۔ دوسرے انبیاء کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ نادان نہیں جانتے کہ کیا دیل بھی خاص اور مخصوص ہوا کرتی ہے؟ جو دلیل خاص ہے وہ تو بجائے خود ایک دعویٰ ہے نہ کہ دلیل۔ ایسی ہی غلطی عیسائی لوگ کیا کرتے ہیں کہ جب کوئی بات یسوع کے متعلق پیش کی جاتی ہے کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا؟ تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو خدا تھا اور اس کے واسطے جائز تھا جو چاہتا کرتا۔ بیوقوف نہیں جانتے کہ دعویٰ خدائی تو بجائے خود ایک دعویٰ ہے نہ کہ دلیل۔ یہ دعویٰ بطور دلیل کے کس طرح پیش ہوسکتا ہے۔ سو جھوٹے دعویٰ والا کبھی سر سبز نہیں ہوا۔ کبھی کسی کاذب کو اتنی مہلت نہیں ملی۔ جتنی کہ آنحضرت ﷺ کو ملی۔ افسوس اآتا ہے کہ ہماری عداوت کے سبب آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی دشمنی کی جاتی ہے۔ جو تبدیلی ہم اس قوم کے درمیان چاہتے ہیں وہ کسی آسمانی طاقت کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے ۔ ورنہ زمینی لوگوں کے