جان کے واسطے تلوار اٹھانے اوروفاعی طور سے لڑائی کرنے کی اجازت نہ دیتا تو کیا ان کو دنیا کے تختہ سے نابود ہی کردیتا ؟توپھر اس حالت میں ان کا تلوار اٹھانا جبکہ ہر طرح سے ان کا حق تھا کہ وہ تلوار اٹھاتے کیا شرعاً اورکیا عرفاً۔ مگر وہ بھی آج تک نشانہ اعتراض بنا ہواہے۔اورمتعصب اورجاہل دشمن اب تک اس کو نہیں بھولتے توکیا اب یہ لوگ خونی مہدی کا عقید ہ پیش کرکے ان کے ان اعتراضوں کو پھرتازہ کرتے اورمسلمانوں سے متنفر کرنا چاہتے ہیں ۔دیکھو مہدی کے بارے میں آنحضرتﷺ نے خود صاف فرمایا ہے کہ یضع الحرب وہ جنگ کا خاتمہ کردے گا اور وہ جنگ ایک علمی جنگ ہوگی۔ قلم تلوار کا کام کرے گااوراسرار روحانی برکات سماوی اورنشانات اقتدار ی سے دنیا کو فتح کیا جاوے گااورتازہ بتازہ غیبی پیشگوئیوں اورتائیدات خدائی سے سچے مذہب ممتاز کرکے دکھایا جاوے گا۔ یہ کہدینا کہ معجزات سابقہ ہمارے پاس موجود ہیں کافی نہیں ۔یادرکھو کہ ہندوئوں کے پستکوں اورعیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کے قصے کہانیوں سے بڑھ کر تمہارے پا س بھی کچھ نہیں۔ اگر تم قصے پیش کروگے تووہ تم سے بڑھ چڑھ کر قصے پیش کرسکتے ہیں ۔اگر اسلام کی سچائی کا معیار بھی صرف قصے کہانیوں کی بناء پر رہ گیا ہے توپھر یادرکھو کہ یہ امر مشتبہ ہے ۔ انبیاء کے وجود اورنشانات کی ضرورت اسلام میں فرقان ہے ۔خدانے ہمیشہ سے اسلام میں ایک امر خار ق رکھا ہے اورتازہ بتازہ نشانات ہیں ۔ نشان کا نام سنکر آجکل کے فلسفہ پڑھنے والے کچھ کشیدہ خاطر ہوتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ خداکے وجود کا پتہ لگانے کے واسطے نشانات اورانبیاء کے وجود کی کیا ضرورت ہے ؟ مگر یادر کھو کہ اس نظام شمسی اوراس ترتیب عالم سے جو کہ ایک ابلغ اورمحکم رنگ میں پائی جاتی ہے۔ اس سے نتیجہ نکالنا کہ خداہے یہ ایک ضعیف ایمان ہے اس سے خدا کے وجود کے متعلق پوری تسلی نہیں ہو سکتی امکان ثابت ہوتا ہے ۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یقینا خداہے اگر اس میں یقینی اورقطعی دلائل ہوتے تو پھر لوگ دہر یہ کیوں ہوتے ؟بڑے بڑے محقق کتابیں تالیف کرتے ہیں مگر ان کے دلائل ناطقہ اور براہین قاطعہ نہیںہوتے ۔کسی کا منہ بند نہیں کرسکتے اور نہ ان سے یقینی ایمان تک انسان پہنچ سکتا ہے ۔اگر ایک شخص ان امور سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے دلائل بیان کرے گا توایک دہر یہ اس کے خلاف دلائل بیان کردیگا ۔ دراصل بات یہ ہے کہ اس طرح اتنا ثابت ہوسکتا ہے کہ خداہونا چاہئیے ۔یہ ثابت نہیں ہوتاکہ ہے۔ہونا چاہئیے اورہے میں بہت بڑا فرق ہے ۔ ہے مشاہدہ کو چاہتا ہے ۔مگر دوسرا حصہ جو وجود باری تعالیٰ کے واسطے انبیاء نے پیش کیا ہے کہ زبردست نشانات معجزات اورخداکی زبردست طاقت کی ظہور سے اس کی ہستی ثابت کی جاوے ۔یہ ایک ایسی راہ ہے کہ تما م سراس دلیل کے آگے جھک پڑتے ہیں