محمد رسول اللہ کی کیا حاجت ہے؟ جب یہ صورت ہے اور توحید کے اورمذاہب بھی قائل ہیں تو پھر تم میں اورتمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز ہی کیا ہوا؟ جہاد کی حقیقت اگر یہی جہاد وغیرہ کے عقائد ہی مابہ الامتیاز ہیں تو پھر یادرکھو کہ یہ سخت غلطی ہے اوراس طرح تم اسلام کے حامی نہیں بلکہ دشمن ہو‘اسلام کو بدنام کرتے ہو۔ دیکھو اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ واقعہ میں قرآن شریف کا یہی منشاء ہے تو پھر ہم اس ملک کے باہر چلے جاتے اور ایسی جگہ قیام گاہ بناتے جہاں سے ہمیں ان احکام کی ادائیگی میں ہر طرح کی سہولت اور آسانی ہوتی اورخوب دل کھول کر ان احکام کو بجالاتے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن کا یہ منشا نہیں جو بدقسمتی سے بعض نادان ملانوں نے سمجھا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس زمانہ میں بڑی بڑی مشکلات کا سامنا تھا ۔ آپ کے بہت سے جان نثار اورعزیز دوست ظالم کفار کے تیروتفنگ کا نشانہ بنے اور طرح طرح کے قابل شرم عذا ب ان لوگوں نے مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں کو پہنچائے حتیٰ کہ آخر کار خود آنحضرت ﷺ کے قتل کا منصوبہ کرلیا۔ چنانچہ آپ کا تعاقب بھی کیا۔ آپ کے قتل کرنے والے کے واسطے انعام مقرر کئے ۔ آپ ﷺ ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے ۔تعاقب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی گئی ۔ مگر یہ تو خداتعالیٰ کا تصرف تھا کہ آپ کو ان کی نظروں سے باوجود سامنے ہونے کے بچالیا اور ان کی آنکھوں میں خاک ڈال کر خود اپنے رسول کو ہاتھ دے کر بچالیا۔ آخر کا رجب ان کفار کے مظالم کی کوئی حدنہ رہی اور مسلمانوں کو ان کے وطن سے باہر نکال کربھی وہ سیر نہ ہوئے توپھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا۔ اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصر ھم لقدیر (الحج :۴۰)خداتعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی اور اس اجازت میں یہ ثابت کردیا کہ واقع میں یہ لوگ ظالم تھے ۔اورشرارت ان کی حد سے بڑھ چکی تھی اورمسلمانوں کا صبر بھی اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکا تھا ۔ اب خداتعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے تلوار سے مقابلہ کیا وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاویں اور گویہ چند اورضیعف ہیں مگر میں دکھا دوں گا کہ میں بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں ان کی نصرت کرونگا اور تم کو ان کے ہاتھ سے ہلاک کرائوں گا۔ چنانچہ پھر اس حکم کے بعد ان ہی چند لوگوں کی جو ذلیل اورحقیر سمجھے گئے تھے اور جنکا نہ کوئی حامی بنتا تھا اورنہ مددگار اوروہ کفار کے ہاتھ سے سخت درجہ تنگ اورمجبور ہوگئے تھے انکی مشارق اورمغارب میں دھاک بیٹھ گئی اوراس طرح سے خدانے ان کی نصرت کرکے دنیا پر ظاہر کردیا کہ واقعی وہ مظلوم تھے ۔غرض ہر طرح سے ہر رنگ میں اورہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھو لو واقع میں اس وقت مسلمان مظلوم تھے یا کہ نہیں ۔ اگر خداتعالیٰ ایسے خطرناک اور نازک وقت میں بھی ان چند کمزورمسلمانوں کو اپنی حفاظت