سے اس کی راہ میں جان دے دینا بہتر ہے ۔‘‘ غرض مرحوم اس بات کا ایک نمونہ چھوڑ گئے ہیں کہ ہمارے تعلق رکھنے والے کیسے صادق رکھنے والے کیسے صادق الایمان اورصادق الاعتقاد ہیں۔ منکرین کا انجام اصل بات یہ ہے کہ مشکلات صرف یہی ہیں کہ لوگوں کوامور دینی میں تدبر کرنا اورخداسے ڈرکر کسی معاملہ میں غورکرنا اورحق وباطل میں امتیاز چاہنا اور یہ تڑپ رکھنا کہ آیا یہ سلسلہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں اس طرف توجہ ہی نہیں ۔ مگر یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فعل عبث نہیں بلکہ اس نے حق وحکمت سے سلسلہ قائم کیا ہے اورضرورت حقہ کے وقت اس کو کھڑا کیا ہے ۔ پس وہ منکروں سے ضرورمطالبہ کرے گا ماارسل اللہ رسولا الا اخزی بہ قوما لا یومنون ۔یاد رکھو کہ دنیا میں ایسا کوئی بھی نبی یارسول نہیں گذرا جس کے منکروں کو خداتعالیٰ نے ذلت اوررسوائی کا عذاب نہ دیا ہو ۔ یہ ضروری اورلازمی ہوتا ہے کہ رسول کی حجت پور ی کردینے کے بعد منکر قوم کو حق وباطل میں امتیاز پیدا کرنے کے واسطے عذاب دیا جاوے ۔ خداتعالیٰ کے نزدیک دوبڑے گناہ خداتعالیٰ کے نزدیک دوبڑے ہی سخت گناہ ہیں۔اول افتراء اور تقول علی اللہ ۔ یعنی یہ کہ کوئی شخص دعویٰ کرے کہ خداتعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے یا وحی یا الہام کرتا ہے حالانکہ اسے نہ کوئی وحی ہوتی ہے اور نہ الہام اورنہ خدااس سے کبھی ہمکلام ہواحتیٰ کہ جھوٹی خواب کا بنالینا بھی اسی میں داخل ہے ۔غرض ایک تویہ امر کہ خداپر افتراء کرنا حالانکہ خداتعالیٰ جانتا ہے کہ وہ کاذب ہے۔دوسرے وہ شخص خداتعالیٰ کے بڑے سخت غضب اورعتاب کا مورد ہوگا جو ایک صادق اورخداتعالیٰ کی طرف سے آنے والے کا انکار کرتا ہے ۔ بہر حال ہمارا مطلب یہ ہے کہ یہ بات ہمیشہ سے چلی آئی ہے اور اس زمانہ میں خداتعالیٰ نے عملی طورپر ایک سلسلہ نبوت قائم کرکے دکھادیا ہے ۔ اس سے اس قدر فائدہ تواٹھانا چاہئیے کہ جہاں اوراپنے دنیوی کاروبار کے واسطے اتنی سرگردانی اورمحنت اورکوشش کرتے ہو اس بات کی بھی کچھ تحقیقات توکر وکہ آیا جو اپنے کاروبار کو خداتعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور اتنا بڑا دعویٰ پیش کرتا ہے اتنا تو معلوم کرلیں کہ یہ صادق ہے یا کاذب ۔ پھر خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص میرے رسول کی نافرمانی کرے گا میں اس کو نہیں چھوڑونگا جب تک اس سے اس انکار کا مطالبہ نہ کرلوں ۔ معمولی حکام اورگورنمنٹ بھی اپنے احکام کی تحقیر کرنے والوں اورباغیوں کو بغیر سزانہیں چھوڑتی توپھر وہ جو خداہے اور احکم الحاکمین ہے ذرہ ذرہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر اسکے