کو لکھے تھے تو ان میں سے ہر قل قیصرروم کے نام بھی ایک خط لکھا تھا۔ اس نے پڑھ کر کسی عرب کی جو آپ کی قوم کاہو تلاش کرائی ۔ چنانچہ چند قریشی جن میں ابوسفیان بھی تھا پیش خدمت کئے گئے ۔ ان سے بادشاہ نے چند سوال کئے جن میں یہ بھی تھا کہ اس شخص کے آباء واجداد میں سے کبھی کسی نے نبوت کا دعویٰ تونہیں کیا ؟جسکا جواب نفی میں دیا گیا ۔ پھر پوچھا گیا کہ کوئی بادشاہ تونہیں گذرااسکے بزرگوں میں ؟اسکا جواب بھی نفی میں دیا گیا ۔ پھر یہ سوال کیا کہ اس شخص کے پیروکون لوگ ہیں ؟اسکے جواب میں کہا گیا کہ انکی پیروی کرنیوالے غریب اور کمزور لوگ ہیں ۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ لڑائیوں میں کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟جواب دیا گیا کہ کبھی وہ فتح پاتا ہے اورکبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات سنکر قیصر نے اقرار کیا کہ انبیاء ہمیشہ دنیا میں اسی شان میں آیا کرتے ہیں انکے ساتھ اول میں ہمیشہ کمزور اورضعیف لوگ ہی شامل ہواکرتے ہیں اس شخص نے اپنی فراست صحیحہ سے معلوم کرلیا کہ واقعی یہ شخص سچا نبی ہے اوریہ وہی نبی ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے چنانچہ اس نے یہ بھی کہا وہ وقت قریب ہے کہ وہ میرے تخت کا بیھ مالک ہوجاویگا ۔
غرض یہ سنت قدیمہ ہے کہ انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزور اورضعیف لوگ ہی ہواکرتے ہیںبڑے بڑے لوگ اس سعادت سے محروم ہی رہ جاتے ہیں ان کے دلوں میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو ان باتوں سے پہلے ہی فارغ التحصیل سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی بڑائی اور پوشیدہ کبر اور مشیخت کی وجہ سے ایسے حلقہ میں بیٹھنا بھی ہتک اورباعث ننگ وعار جانتے ہیں جس میں غریب لوگ مخلص کمزور مگر خداتعالیٰ کے پیارے لوگ جمع ہوتے ہیں ۔میں دیکھتا ہوں کہ صدہالوگ ایسے بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں جن کے بدن پر مشکل سے لباس بھی ہوتا ہے ۔ مشکل سے چادر یا پاجامہ بھی ان کو میسر آتا ہے ۔ ان کی کوئی جائیداد نہیں مگر ان کے لاانتہاء اخلاص اور ارادت سے محبت اوروفاسے طبیعت میں ایک حیرانی اورتعجب پیدا ہوتا ہے جوا ن سے وقتاً فوقتاً صادر ہوتی رہتی ہے یا جس کے آثار ان کے چہروں سے عیاں ہوتے ہیں وہ اپنے ایمان کے ایسے پکے اوریقین کے ایسے سچے اور صدق وثبات کے ایسے مخلص اورباوفا ہوتے ہیں کہ اگر ان مال ودولت کے بندوں ان دنیوی لذات کے دلدادوں کو اس لذت کا علم ہوجائے تواس کے بدلے میں یہ سب کچھ دینے کو تیار ہوجاویں ۔ ان میں سے مثال کے طور پر ایک شخص شاہزادہ مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم ہی کے حالات کو غور سے دیکھ لو کہ کیسا صدق کا پکا اور وفاکا سچا تھا ۔ جان تک سے دریغ نہں کیا۔ جان دے دی مگر حق کو نہیں چھوڑ ا۔ان کی جب مخبری کی گئی اور ان کو امیر کے روبروپیش کیا گیا تو امیر نے ان سے یہی پوچھا کہ کیا تم نے ایسے شخص کی بیعت کی ہے ؟تو اس نے چونکہ وہ ایک راستباز انسان تھا صاف کہا کہ ’’ہاں میں نے بیعت کی ہے مگر نہ تقلید اً اندھا دھند بلکہ علیٰ وجہ البصیرۃ اس کی اتباع اختیار کی ہے۔ میں نے دنیا بھر میں اس کی مانند کوئی شخص نہیں دیکھا ۔ مجھے اس سے الگ ہونے