کی خدمت میں ملاقا ت کے واسطے حاضر ہوئے ۔ حضرت اقدس نے مخاطب کرکے فرمایا :۔ میں جب مامور ہواتھا اورخداتعالیٰ نے اس سلسلہ کو بہت صاف طورسے قائم کیا۔ کوئی شک وشبہ نہیں تھا۔ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں اورقرآن شریف کے عین منشاء کے مطابق اورٹھیک وقت پر ظہور ہواتھا اور پھر صداقت دعویٰ کے ساتھ خدائی نشان بھی تھے تو میں نے سب سے اول اس امر کو گروہ علماء کے پیش کیا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ علماء اس امر کو سب سے پہلے قبول کریں گے ۔ میرا خیال تھا کہ یہ لوگ بوجہ علوم دین سے واقفیت رکھنے کے بلا عذر مجھے قبول کرلیں گے ۔ کیونکہ میرادعویٰ عین قرآن وحدیث کے مطابق اورضرورت حقہ کے واسطے تھا اوریہ لوگ خود انتظار میں تھے اور تحریراً تقریر اً اپنے واعظوں اورلیکچروں میں کہا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں مسیح موعود کا آجانا یقینی اورقطعی ہے اورعلاوہ ازیں گل علامات جو یہ بیان کرتے تھے میری صداقت کے لئے ظاہر ہوچکی تھیں ۔ مگر ہماری وہ امید بالکل غلط نکلی علماء کی طرف سے ہمیں اس دعوت کا جوجواب ملاوہ ایک فتویٰ تھا جس میں ہمیں کافر ‘اکفر ‘ضال ‘مفصل ‘دائرہ اسلام سے خارج ‘یہود اورنصاریٰ سے بدتر قرار دیا اورلکھا گیا کہ ان لوگوں کو اپنی قبروں میں داخل نہ کیا جاوے ۔ ان کے جنازے نہ پڑھے جاویں۔ ان کے ساتھ ملاقات نہ کی جاوے ۔ ان سے مصافحہ نہ کیا جائے ۔حتیٰ کہ یہانتک تشدد کیا کہ جوان سے میل جول رکھے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔ پھر ان لوگوں سے یہ جواب پاکر ہمیں خیال آیا کہ تعلیم یافتہ لوگ عملاً بے تعصب اورعناد سے پاک ہوتے ہیں۔لہٰذا اسی خیال سے ہم نے پھر اپنی دعوت نئے تعلیم یافتہ گروہ کے پیش کی مگر ان میں سے اکثر کو بے قید پایا اور اکثر کو دیکھا کہ وہ خود اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ اسلام کی تعلیم ایک جاہلانہ اور وحشیانہ زمانہ کی تعلیم تھی اب اس کی ضرورت نہیں ۔اب اس سے فراغت حاصل کرنی چاہئیے اورزمانہ کی رفتار کے کے مناسب حال ترمیم کرلینی چاہئیے ۔غرض اس طرح اس قوم کے لوگوں سے بھی محرومی ہی ہوئی۔الاماشاء اللہ پھر رئوساء کے گروہ کی طرف اپنی دعوت بھیجی کہ ان کو دنیا کا حصہ دیا جاتا ہے اوریہ سید ھے سادے مسلمان ہوتے ہیں ۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص صدیق حسن خاں نے ہماری کتاب کو چاک کر کے واپس بھیجدیا اوراس طرح سے اپنی قساوت قلبی کا اظہار کیا۔ ان کے بعد ہم نے سمجھا کہ یہ سعادت ہمیشہ ضعفاء ہی کا حصہ ہوتی ہے چنانچہ ہمارا یہ خیال بالکل صحیح نکلا اورسنت قدیمہ کے بموجب ضعفاء ہی اکثر ہمارے ساتھ ہوئے جن کو نہ مولویت کاگھمنڈ اورنہ دولت کا تکبر بلکہ سادہ لوح اورپاک نفس ہوتے ہیں۔ اوروہی خداتعالیٰ کے بھی مقرب ہوتے ہیں ‘چنانچہ اسی گروہ میں سے کئی لاکھ انسان اب ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی جب نبوت کا خلعت خداتعالیٰ سے پاکر دعوت اسلام کے خط بادشاہوں