ہی غور سے پڑھ سن لئے جاویں تواس پیشگوئی کی عظمت اورہیبت معلوم ہوگی ۔کیا یہ انسان کا کام ہے ؟ہر گز نہیں ۔پس اگر یہ خداکا کلام ہے توپھر کیوں خداتعالیٰ کے مقابلہ میں ایسی جرات اوردلیری کی جاتی ہے ۔ اولیاء اورصاحب کشف لوگوں کے نزدیک مہد یاورمسیح موعود کا زمانہ میں کمزور اورایک عاجز انسان ہوں مگر خداتعالیٰ جس سے چاہے کام لے لے ۔ یہ اس کی بندہ نوازی ہے کسی کا حق نہیں کہ خداتعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرے۔ زمانہ آگیا تھا اورتمام اہل اللہ نے اس وقت کی خبر دی تھی ۔حجج الکرامہ میں بہت سے اولیاء اللہ اوراہل کشف لوگوں کے اقوال کے حوالے درج کرکے صدیق حسن خاں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جتنے بڑے بڑے اولیاء اورصاحب کشف لوگ تھے تمام نے متفق طورسے یہی خبر دی ہے کہ آنے والا مہدی اورمسیح موعود چودھویں صدی میں ہی آئے گا ۔ چودھویں صدی سے آگے کوئی بھی نہیں بڑھا۔ پھر آگے چل کرلکھا ہے کہ ’’کاش وہ میرے زمانہ میں پیدا ہوں تومیں ان کو آنحضرت ﷺ کاسلام پہنچادوں ورنہ میں اپنی اولاد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس کو پاویں گے میرا سلام پہنچا دیں ۔مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کوبہت کم توفیق قبول حق کی ملتی ہے کیونکہ سنت اللہ یہی ہے ۔آنحضرت ﷺ کی بعثت کے زمانہ سے پہلے ایک شخص بڑے زور سے وعظ کیا کرتا تھا کہ لوگو! نبی آخرالزمان آنے والے ہیں ۔ ان کی آمد کے تمام نشانات اورلوازم پورے ہوگئے ہیں مگر خداکی شان کہ جب آپؐ مبعوث ہوئے تواول المکذبین ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم زمانہ ہونا بھی ایک فخر اورتکبر بیجا پیداکردیتا ہے جو قبول ہدایت سے محرومی کا باعث ہوجاتا ہے ۔صدیق حسن نے بھی ہماری کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور بے ادبی کی تھی مگر بہت دن نہ گذرے کہ خدائی عتاب میں آگیا اور آخر بڑی عاجزی اورانکسار ی سے دعا کے واسطے لکھا ۔ ہم نے اس کے واسطے دعا کی ۔ اورخداتعالیٰ نے ہمیں خبر دی کہ ہم نے اس کی عزت کو سرکوبی سے بچالیا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اوراس کے واسطے نوابی کا خطاب بحال رکھنے کا حکم آگیا مگر وہ اس حکم کے آنے سے پہلے وفات پاچکا تھا ۔۱؎ انبیاء کا ساتھ دینے والے ہمیشہ کمزوراور ضعیف لوگ ہوتے ہیں مسٹر محمد علی جعفری ایم ۔ اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو جو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۳۳صفحہ ۱تا ۷مورخہ ۱۴ مئی ۱۹۰۸ئ؁