پس یادرکھو کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی غریب ۔مسافر گٹھڑی باندھے سفر کو تیار بیٹھا ہوتاہے ۔ دنیا کے بہت سے فکر اپنے ذمے ڈال لینے ٹھیک نہیں ہوتے ۔ دیکھو دنیا میں طرح طرح کے آفات کیسے خطرناک حملے کررہے ہیں طاعون ہے۔زلزلے ہیں۔ قحط ہے ۔ ان کے علاوہ اورسینکڑوں آفات ارضی وسماوی ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے انسان مطمئن کیسے ہوسکتا ہے ۔ دیکھو یہی طاعون بھی ہماری صداقت کا ایک زبردست نشان ہے ۔ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وحی پاکر اس مرض کی خبر اس کے متعلق اپنی کتابوں اورسلسلہ کے اخباروں میں لکھ کردنیا کواطلاع دی تھی کہ خطرناک طاعون ملک میں پھیلنے والا ہے ۔ ہرایک کوچاہئیے کہ قبل اس کے کہ وہ واردہوجاوے توبہ استغفار میں مصروف ہوجائو اور اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کر لومگر بہت تھوڑے تھے جنہوں نے ہماری بات کو سچا جانا اور اس کی طرف توجہ کی ۔ہم نے دیکھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں بعض لوگ سیاہ رنگ کے درخت لگارہے تھے ۔ ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ درخت طاعون کے ہیں ۔ اورپھر ہاتھی کا ساجانور جس کے اعضاء مختلف حیوانات سے مشابہ تھے اورمجموعی شکل ہاتھی سے مشابہ تھی دیکھا کہ وہ ہاتھی ایک بن میں کبھی ادھر اورکبھی ادھر مختلف سمتوں میں جاتا تھا اورمختلف قسم کے جنگلی جانوروں مثل ہرن ‘بکری ‘سانپ ‘خرگوش ‘وغیرہ وغیرہ پر حملہ کرتا اوران کو کھاجاتا ۔ جب وہ حملہ کرتا توجانوروں کے شوروغل سے ایک قیامت کا شوربپا ہوجاتا اوراس کے ہڈیوں وغیرہ کے چبانے کی آواز ہم سنتے تھے ایک طرف سے فارغ ہوکر وہ ہمارے پاس آجاتا اوراس کے چہرہ سے بڑے علم اور غربت کے آثار نمایاں تھے اور گویا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زبان حال سے کہتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں تومامور ہوں۔ مجھے جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہوں ۔تھوڑی دیر ہمارے پاس ٹھہرنے کے بعد پھر دوسری طرف جاتا اوروہاں بھی پہلے کی طرح عمل کرتا اور پھر میرے پاس آبیٹھتا ۔ ایک طرف تو وہ جنگلی جانوروں کو کھاتا اوردوسری طرف ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خداتعالیٰ کے نازل شدہ غضب سے وہ خود بھی ہیبت زدہ تھا۔
یہ باتیں ہم نے آج بنالیں بلکہ یہ اس وقت کی ہیں کہ جب طاعون کا ملک میں نام ونشان بھی نہ تھا ۔ کیا اس قسم کی غیبی پیشگوئیاں انسان کی طاقت میں ہیں ؟اورانسان ایسے غیب کے بتانے پر قادر ہوسکتا ہے ؟غور تو کروکہ یہ کس قسم کا افتراء ہے جو عین دعویٰ کے مطابق ظہور پذیر ہوکر صدق دعویٰ کی ایک زبردست اورلاجواب دلیل بن گیا ہے ۔
پھر زلزلہ کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے قبل ازوقت خبر دی تھی ۔ زلزلہ کا دھکا اور عفت الدیا ر محلھا ومقامھا دیکھو پھر کیسا زلزلہ آیا اور کیسی کیسی تباہیاں دنیا میں واقع ہوئیں ۔ ذرا کانگڑ ہ کے مندر کے حالات