قرآن شریف سے کوئی ثابت نہ کرسے گا ۔ دیکھو یہی لفظ توفی آنحضرت ﷺ کے حق میں قرآن شریف نے بولا ہے ۔امانرینک بعض نعدھم اونتوفینک(یونس ـ:۴۷)اورحضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی لفظ توفی ہی آیا ہے توفنی مسلما والحقنی بالصالحین (یوسف :۱۰۲) اب جائے غور ہے کہ اوروں کے واسطے تویہی لفظ موت پر دلالت کرے مگر حضرت عیسیٰؑ کے حق میں اگر آجاوے تواس میں کچھ ایسی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کے معنے بجائے موت کے جسم عنصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلا اجماع جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہو اوہ وفات عیسیٰؑ کے مسئلہ پر ہے ۔ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب جو ایک بڑے مخلص آدمی ہیں ان کو ایک بشپ پادری سے زندہ رسول کے مسئلہ پر مباحثہ کرنے کا موقعہ ملا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ لاہور میں ایک لارڈ بشپ نے ایک بڑے بھاری مجمع میں بیان کیا کہ مسلمانوں کا رسول (نعوذ باللہ )زندہ نبی کہلانے کا مستحق نہیں ہے زندہ نبی صرف حضرت عیسیٰؑ ہی ہیں ۔ مسلمانوں کے رسول مدینہ میں مدفون اور مسیح زندہ آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہے ۔ سب مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ تم ہی سوچو اورفیصلہ کرو کہ افضل ان میں سے کون ہے ؟مسلمان بیچاروں کے پاس اس سوال کا کیا جواب تھا ۔ اتفاق سے مفتی محمد صادق صاحب اس جلسہ میں موجود تھے ۔ انہوں نے یہ حال دیکھ کر غیر ت اسلامی کے تقاضا اور جوش سے اٹھ کر کہا کہ میں آپ کے اس سوال کا جواب دیتا ہوں ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح کی وفات کو بیان کرکے کہا کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی حیات کا کہیں بھی ذکر نہیں ۔ قرآن شریف ان کو باربار انبیاء کی طرح وفات یافتہ قراردے چکا ہے ۔ یہ جواب سنکر وہ بشپ چونک پڑا اورکوئی جواب اس سے بن نہ آیا ۔ صرف یہ کہہ کرٹال دیا کہ معلوم ہوتا ہے تم مرزائی ہو۔ ہم تم سے گفتگو نہیں کرتے ۔ ہمارے مخاطب عام مسلمان ہیں ۔ اس واقعہ نے ہمارے دشمنوں کے دلوں پر بھی اثرکیا اور اندر ہی اندر وہ ملزم ہوگئے اور ان کو یقین ہوگیا کہ آج اگر کوئی عیسائیوں پر غالب آسکتا ہے تو وہ یہی فرقہ ہے اورلوگوں نے متفق اللفظ ہوکر یہ کہا کہ اگر چہ ہیں تویہ کافر مگر آج اسلام کی عزت انہی لوگوں نے رکھ لی ہے ۔ صداقت کے زبردست نشانات فرمایا کہ :۔ قربان جائیے ایسے کفر کے جو اسلام کی اورآنحضرت ﷺ کی عزت کا باعث ہو۔