انسان کو اس میں تدبر کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔ بلکہ بعض جو شیلی طبیعت کے آدمیوں کو سمجھنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔ کیونکہ وہ تو اپنے خیالات کے خلاف سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں ۔ اور ان کے منہ میں جھاگ آنے لگ جاتا ہے ۔ برخلاف اس کے کتاب کو انسان ایک الگ حجرے میں لے کر بیٹھ جاوے تو تدبر کا بھی موقعہ ملتا ہے ۔ اور چونکہ اس وقت مقابل کوئی نہیں ہوتا اس واسطے خالی الذہن ہو کر سوچنے کا اچھا موقعہ ملتا ہے ۔ مگر بایں ہمہ ہم نے دوسرے پہلو کو بی ہاتھ سے نہیں دیا اور اس غرض کے واسطے مختلف شہروں میں گئے ۔ تبلیغ کی ہے ۔ بعض مقامات میں تو ہما را اینٹ پتھروں سے بھی مقابلہ کیا گیا ہے ۔ ابھی آپ کے نزدیک تبلیغ نہیں کی گئی ۔ ہم اپنا کام ختم کر چکے ہیں ۔ ہم نے اپنی زندگی میں کوئی کام دنیوی نہیںرکھا۔ ہم قادیان میں ہوں یا لاہور میں جہاں ہوں ہمارے انفاس اللہ ہی کی راہ میں ہیں ۔ معقولی رنگ میں اور منقولی طور سے تو اب ہم اپنے کام کو ختم کر چکے ہیں ۔ کوئی پہلو ایسا نہیں رہ گیا ج کو ہم نے پورا نہ کیا ہو ۔ البتہ اب تو ہماری طرف سے دعائیں باقی ہیں ۔ خدا نے بھی کوئی امر باقی اٹھا نہیں رکھا۔ معجزات اس کثرت اور ہیبت سے دکھا ئے ہیں کہ دشمن ان کی عظمت اور شوکت کو مان گئے ہیں ۔ اب اگر کوئی ہدایت نہ پاوے تو یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے ۔ انک لا تھدی من احببت (القصص : ۵۷) وفات مسیح کا نسخہ: خدا تعالیٰ کے سلسلے کو ہتک اور خفت کی نظر سے نہ دیکھنا چاہیے ۔ اس نے بہت بڑا ارادہ کیا ہے ۔ اسلام کی خیراسی میں ہے ۔ ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے ۔ ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو مدفون اورحضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمان پر بٹھا یا ۔ یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہو یا مضر ۔ اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو ۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں ۔ ہر قوم اور ہر فرقے میں سے سید مغل پٹھان قریشی وغیرہ ۔ یہ تو حضرت عیسیٰ ؑ کو بار بار زندہ کہنے نتیجہ ہے ۔ مگراب دوسرا نسخہ ہم تباتے ہیں ۔ وہ استعمال کرکے دیکھو اوروہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو ( جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ نے فعلی شہادت دے دی ۔) وفات شدہ مان لو۔ان میں سے ایک شخص جو کہ لمبے قد کا تھا وہ بولا کہ آپ سچ کہتے ہیں آپ اپنا کام کئے جاویں میں نے آپ کا طریق سمجھ لیا ہے ۔ واقع میں اسلام کی خیرا سی میں ہے ۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کے حق میں توفی کا لفظ استعمال کیا ہے اورآنحضرت ﷺ نے اپنی رویت سے فعلی شہادت دی کہ ان کو معراج کی رات مردوں کے ساتھ دیکھا۔ بھلازندوں کو مردوں سے کیاتعلق ؟حضرت عیسیٰؑ اگر زندہ ہوتے تو ان کے واسطے توکوئی الگ کوٹھڑی چاہئیے تھی نہ یہ کہ وہ بھی مردوں کے ساتھ ہی رہیں۔ توفی کا لفظ بجز وفات کے جسم عنصری سے آسمان پر چڑھانے کے ہرگز