کے ساتھ مسیح کو آسمان پر چڑھائے بیٹھے ہیں اور خیال نہیں کرتے کہ اتنے عرصہ تک اس نامعقول عقیدہ نے کیسا فساد ڈالا ہے جو آئندہ فاسدہ کی پیروی سے ان کو کچھ حاصل ہوجائے گا۔ خدا تعالیٰ علیم اور حکیم ہے اورعمیق در عمیق باتوں کا واقف کار ہے۔ اس کی حکمت نے جو راہ اختیار کی ہے۔ اسی پر چلنے سے اسلام کا بول بالا ہوسکتا ہے یسوع تو خود داغی ہوچکے کہ ان کے نام پر اس قدر شرک ہوتا ہے۔ اب ان کی آمد میں اسلام کے واسطے کوئی فائدہ کی صورت نہیں بن سکتی ۔اسلام کے واسطے بیرونی اور اندرونی فساد اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ظاہری عقل کے مطابق تو اب یاس اور ناامیدی کے سوائے اور کچھ باقی نہیں ہے۔دین کی اشاعت کے لئے جو سامان اور طاقتیں عیسائیوں کے پاس ہیں کہ ایک ایک کتاب کو کئی کئی لاکھ چھاپتے ہیں اور مفت تقسیم کرتے ہیں وہ بات مسلمانوں کو کہاں حاصل ہے؟ یہاں تو ایک چھوٹا سا رسالہ چھاپنا ہوتواس کے واسطے بھی سامان بمشکل حاصل ہوتا ہے۔ غرض ظاہری دولت اور طاقت اور سعی کے ذریعہ سے ہم فتح نہیں پاسکتے ۔ بلکہ ہمارا ہتھیار ہے صرف دعا اور توجہ الی اللہ ۔ یہ بھاری مہم صرف دعا کے عظیم الشان ذریعہ سے ہوگی ۔ ڈاکٹر عبدالحکیم نادانی سے اعتراض کرتا ہے کہ یہ ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کیوں ایسا نہیں کرتے کہ شہر بہ شہر گشت کریں۔ یہ اس کی غلطی ہے۔ اگر میں جانتا کہ ملکوں میں پھرنے سے فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تو میں ضرور ہی ایسا کرتا۔ حدیث شریف میں دجال کے متعلق آیا ہے لا یدان لاحد لقتالہ۔ اس کے ساتھ جنگ کرنے کے ہاتھ کسی کے پاس نہ ہوں گے۔ زمینی اسباب کے ساتھ ہم اس دجال کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیوں کہ زمینی اسباب خود اس کے پاس بہت ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسا اعلیٰ ہتھیار ہونا چاہیئے جو اس کے پاس نہ ہو تب تو ہم فتح پاسکتے ہیں۔ آج کل مخلوق پر دنیا کی حب حد سے زیادہ غالب ہے۔ اس کو ہم نکالنا چاہتے ہیں اور اسی کو نکالنا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ لکھا ہے کہ سب سے آخر جو چیز نفس سے نکلتی ہے وہ دنیاکی محبت ہے بجز ایک آسمانی طاقت کے ہمارے واسطے کوئی کامیابی کی راہ نہیں۔ فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ نے ہم کو سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی کہ اے خدا نہ توہمیں مغضوب علیہم میں سے بنائیو اور نہ ضالین میں سے۔ اب سوچنے کا مقام ہے کہ ان ہر دو کا مرجع حضرت عیسٰیؑ ہی ہیں۔ مغضوب علیہ وہ قوم ہے جس نے حضرت عیسٰیؑ کے ساتھ عداوت کرنے اوران کو ہر طرح سے دکھ دینے میں غلو کیا۔ اور ضالین وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ محبت کرنے میں غلو کیا اور خدائی صفات ان کو دے دئیے ۔ صرف ان دونو کی حالت سے بچنے کے واسطے ہم کو دعا سکھلائی گئی ہے۔ اگر دجال ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو یہ دعا اس طرح ہوتی کہ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَّلَا الدَّجَّالِ۔ یہ ایک پیشگوئی ہے جو کہ اس زمانہ کے ہر دو قسم کے شر سے آگاہ کرنے کے واسطے مسلمانوں