تحریری اور زبانی تبلیغ کا موازنہ :
شاہزادہ صاحب موصوف نے سوال کیا کہ آپ بجائے اس کے کہ قادیان ہمیشہ قیام رکھیں دورہ کرکے پنجاب اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں اگر پھر کر وعظ و تبلیغ کاکام کریں تو زیادہ مفید ہوگا ۔
فرمایا کہ:۔
اصل بات یہ ہے کہ تبلیغ کے وسائل َہر زمانہ میں مناسب حال الگ الگ ہوتے ہیں ۔ اس زمانہ کی آزادی اگرچہ عمدہ چیز ہے مگر ساتھ ہی اس میں بعض نقائص بھی ہیں ۔ آپ نے جو طریق فرمایا ہے میں نے اس طریق تبلیغ کو بھی استعمال کیا ہے ۔ اور بعض مقامات میں اس غر ض کے لئے سفر بھی کئے ہیں ۔ مگر اس میں تجربہ سے دیکھا ہے کہ اصل مقصد کماحقہ حاسل نہیں ہو سکتا ۔ دوران تقریر میں بعض لوگ بول اٹھتے ہیں ۔ دو چار گالیاں بھی سنا دیتے ہیں ۔ اور شور و غوغا کر کے بد نظمی کا باعث ہو جاتے ہیں اس لاہور میں ہی ایک دفعہ ھالانکہ خود ہمارا اپنا مکان تھا اور پولیس وغیرہ کابھی انتظام تھا ۔ مگر ایک شخص دوران تقریر میں عین بھری مجلس میں کھڑا ہوا اور منہ پر کھڑے ہو کر گالیاں سنائیں ۔میاں محمدخان صاحب مرحوم جو کہ ہمارے بڑے مخلص اور محبت کرنے والے تھے ان کو جوش آگیا مگر ہم نے ان کو بند کر دیا کہ ہمارے اخلاق کے یہ امر برخلاف ہے کہ اسی قسم کا پہلو اختیار کیا جاوے ۔
غرض لاہور میں امر تسر میں دہلی میں سیالکوٹ وغیرہ میں ہم نے اچھی طرح سے آزمالیا ہے کہ یہ نسخہ فتنہ ہے خالی نہیں ۔ اور اس میں شر کا اندیشہ زیادہ ہے چنانچہ امر تسر میں ہمیں پتھر مارے گئے اورایک پتھر ہمارے لڑکے کے بھی لگا۔ بعض دوستوں کو جوتیاں بھی لگیں لایلدغ المومن من جحرواحد مرتین ۔ پس آزمودہ نسخہ کو ہم دوبارہ کیسے آزماسکتے
ہیں ۔
پھر دوسرا بڑا نقص یہ ہے کہ زبانی گفتگو میں نقل کرنے والے جو ان کا دل چاہے کر لیں اور چاہیں تو رائی کا پہاڑ بنا لیں ۔ قلم ان کے ہاتھ میں ہے ۔، پھر بعض شریرالنفس لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دو دو گھنٹے تک ان کو سمجھایا جتا ہے ۔ مگر چونکہ ان زبانی تقریروں میں انسان کو سوچنے کا بہت کم موقعہ ملتا ہے اور زبانی تقریریں صرف آنی اور فوری ہوتی ہیں ان کا اثر دیر پا نہیں ہوتا۔ ا س واسطے مجبوراً اس راہ سے اجتناب کرنا پڑا اور سلسلہ تحریر میں میں نے اتمام حجت کے واسطے مفصل طور سے ستر پچھتر کتابیں لکھی ہیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک جداگانہ طور سے ایسی جامع ہے کہ اگر کوئی طالب حق اور طالب تحقیق ان کا غور سے مطالعہ کرے تو ممکن نہیں کہ اس کو حق و باطل میں فیصلہ کرنے کا ذخیرہ بہم نہ پہنچ جاوے ۔ ہم نے اپنی عمر میں ایک بھاری ذخیرہ معلومات کا جمع کردیا ہے ۔ اورجہانتک ممکن تھا ان کی اشاعت بھی کی گئی ہے ۔ اور دوست اور دشمنوں نے ان کو پڑھا بھی ہے ۔ زبانی تقریر کا عرصہ کم ہوتا ہے ۔