جھو ٹا مذہب دکھاناچاہتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ اس کا دنیا سے بالکل استیصال ہو جاوے ۔ اسلام کے اندرونی دشمن غرض یہ تو بیرونی دشمنوں کاحال ہے ۔ خود گھر حال اس سے بد تر نقصان اور مضرت کا باعث ہو رہے ہیں ۔ علماء جع دین کے ستون اور نجات کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا یہ حال ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے عین سنت قدیمہ کے مطابق محض حق و حکمت سے عین ضرورت کے وقت ان مفاسد کی اصلاح اور انسداد کے واسطے ایک آسمانی سلسلہ قائم کیا اور اس کے منجانب اللہ ہونے کی صداقت کے واسطے ہزاروں اقتداری نشانات ظاہر فرمائے ہیں ۔ یہ لوگ جن کا بوجہ اس کے کہ دین کے ستون اور قرآن اور حدیث کے علوم سے واقف و آگاہ ہونے کے زیادہ مستحق اس بات کے تھے کہ اس سلسلہ کی تائید کرتے الٹے دشمن اور استیصال چاہنے والے بن گئے ۔ اور طرح طرح کے منصوبوں سے اس خدائی نور کے بجھادینے کی کوشش میں مصروف ہو گئے ۔ اور ان کی علمی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہے کہ حافظ شیرازی کا یہ شعر؎ واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر مے کنند چوں بخلوت مے روندآں کار دیگر مے کنند شاید انہی علماء کے واسطے لکھا گیا تھا۔ پھر ان سے دوسرے طبقہ کے لوگ جو امر اء ہیں ان کا جو حال ہے وہ بھی اظہر من الشمس ہے وہ تو دین سے بے تعلق ہیں ۔ ان کو اپنے عیش و عشرت سے ہی فرصت نصیب نہیں ۔ اگر فرصت نصیب ہو گی تو شطرنج کھیلنے میں گذار دیں گے ۔ پھر اگر تیرے طبقہ کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا جاوے جو کہ عوام ہین تو اور بھی اسلام کی غربت اور نازک حالت پر رحم آتا ہے ۔ جیلخانوں میں مسلمان بھر ے پڑے ہیں ۔ شراب خانوں میں مسلمان خراب ہو رہے ہیں ۔ طوائف کے رنگ میں مسلمان کہلناے والے ہی بدحال ہیں ۔ غرض ہر فسق وفجور اور معاصی اور گناہ کی مجلس میں غور سے دیکھو تو مسلمانوں کا نمبر بڑھا ہواہے ۔ جھوٹی گواہیان دینا بھی مسلمانوں بلکہ خصوصاً نام کے مولویوں کا پیشہ ہی ہو گیا ہے ۔ پھر بایں ہمہ ہم پر کفر کے فتوے لگا ئے جاتے ہین اور طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں ۔ ہماری یہ خواہش ہے اور ہمین اس بات کا اشتیاق ہے کہ صاحب اثر مسلمانوں کی ایک جماعت اس معاملہ کی تحقیقات تو کرے کہ آیا ہم پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ سچے ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے کہ ہم نے قرآن اور رسول کو چھوڑ دیاہے ۔ اور نعوذباللہ کوئی نیادین بنا لیا ہے ۔ کیا یہ سچ ہے کہ ہم انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں ۔