کا شیوہ ہو جاتا ہے ۔ اور لو گ اپنے خالق اور معبود حقیقی سے منہ پھیر کر سینکڑوں بت اپنے واسطے تجویز کر لیتے ہیں ۔ اور انبیاء کی تعلیم لوگ بھول جاتے ہین ۔ ایسے خطرناک وقت میں اللہ تعالیٰ ایک روحانی سلسلہ پیدا کر کے ان سب مفاسد کی اصلاح کرتا ہے ۔ آج بھی اگر کسی انسان میں فراست موجود دہے تو دیکھ سکتا ہے ۔ کہ کیا اسلام کی حالت اس خطرناک حالت تک پہنچی ہے یا کہ نہیں۔ جس وقت خدا تعالیٰ اس کی خبر گیری کرے ۔ زمانہ خود پکار پکار کر زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے ۔
مسلمان حکمرانوں کی حالت ۔
مسلمانوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے ۔ معمولی مسلمان تو کسی شمار میں ہی نہیں ۔ جو لوگ بادشاہ کہلاتے ہیں اور خلیفہ المسلمین امیر المومنین ہیں ۔ خود ان کا حال ایسا ہے کہ باوجود بادشاہ ہونے کے ان کو اتنی جرات نہیں کہ ان کی سلطنت میں کوئی شخص جرات اور آزادی سے اظہار حق بھی کر سکے ۔ سلطان روم کی سلطنت میں کوئی چار سطر بھی مذہب عیسوی کے خلاف نہیں لکھ سکتا۔ شاید یہ خیال ہوگا کہ تمام عیسائی سلطنتیں ناراض ہو کر سلطنت چھین لیں گئی ۔ مگر خدا کی سلطنت کا ذرہ بھی خیال نہیں اور نہ ہی خدا تعالیٰ کی طاقت پر پورا بھروسہ ہے ۔ خود داری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے ۔ مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال ۔ حالانکہ ہمار تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں ۔ دیکھو ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں اور کس طرح زور سے ان کے عقائد باطلہ کا رد کیا ہے مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی بھاری خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیاگیا۔ اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی ۔ دیکھو ہمارے اس مقدمہ کیطرف ہی غور کرکے دیکھ لو کہ کس دیانت داری اور انصاف سے اس اک فیصلہ کیاگیا۔ امر تسر سے چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت پر وارنٹ نکالاگیا۔ مگر خدا کی قسدرت وہ کتاب ہی میں پڑا رہ گیا۔ اور بعد میں اس حاکم کو معلوم ہوا کہ وہ ایسا کرنے کا مجاز بھی نہ تھا مگر خدا کا تصرف جو ہمیشہ اپنے فرستادوں کے واسطے رنگا رنگ طرزوں میں ظاہر ہوا کرتا ہے ۔ اس نے اس خطرناک وقت میں بھی ہماری نصرت کی ۔ پھر مقدمہ تبدیل ہو کر معاً گورداسپور کی ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں آگیا۔ جس نے کوئی ورانٹ نہ نکالا اور ہمیں بلوا کر بڑے احترام اور عزت سے ہمارے ساتھ سلوک کر تا رہا ۔
ہماری غرض اس امر کے اظہار سے صرف یہی ہے کہ اول تو گورنمنٹ پر مذہبی معاملات کی وجہ سے مخالف ہو یا موافق کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ کیا جاتا ہے ۔ جو انصاف اور دیانت کا تقاضا ہو ۔ دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کا تعلق ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے ہر مشکل کے وقت اس تسلی اور ہر بلا سے نجات عطا کی جاتی ہے ۔ جو خدا کا ہو جاتا ہے ۔ خدا بھی پھر ہر بات میں اس کا پاس کرتا ہے ۔ ایسے لوگ مومن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں جو دنیا کے خطرا ت اور