متواتر چھبیس سال ہوئے ہیں کہ اس نے ہمیں مامور کیا۔ مجدد بنایا اوراصلاح مفاسد زمانہ کی غرض سے دنیا میں بھیجا ۔ اورپھر یہی نہیں کہ صرف ہمارازبانی دعویٰ ہوبلکہ اس نے ساتھ ہی ساتھ اپنے ہزاروں زبردست نشان بھی دئیے ۔ منہاج نبوت پر بھیجا۔مگر لوگوں نے پروانہ کی بلکہ الٹا کافر کہا ۔ دجال کہا ۔ کذاب کہا۔ حالانکہ جس خدانے مجھے بھیجا اس نے مجھے میری صداقت کے لئے نشان بھی ظاہر کئے ۔ا یک نہیں ۔ دونہیں بلکہ ہزاروں نشان ۔دنیوی عدالتوں میں خواہ کتنا ہی سخت سے سخت مقدمہ ہو مگر دوتین گواہ گذرنے پر سزائے موت تک بھی دی جاتی ہے مگریہاں توہزاروں لوگ ہیں جو ہمارے ان نشانات کے گواہ میں مشرق سے مغرب تک کوئی جگہ نہیں جہاں ہمارے نشانوں کی گواہی موجود نہ ہو مگر بایں ہمہ ان لوگوں نے پروانہیں کی۔
گورنمنٹ کا ادنی چپڑاسی وصولی لگان کے واسطے آجاوے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرتا اور اگر کرے تو گورنمنٹ کا باغی ٹھہرتا ہے اور سزا پاتا ہے مگر خدائی گورنمنٹ کی لوگ پروانہیں کرتے خدا تعالی سے آنے والے لاریب گربت کے لباس میں ہوتے ہیں۔ لوگ ان کو حقارت اور تمسخرسے دیکھتے ہیں ۔ ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں ،۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ یحسرۃ علی العباد مایا تیھم من رسول الا کا نو ابہ یستھزئون (یس : ۳۱)اللہ تعالیٰ سچا ہے وہ جھوٹ نہیں کہتا۔ وہ فرماتا ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جتنے بھی نبی آئے ہیں ۔ ان تمام سے ہنسی ٹھٹھا کیا گیا ہے مگر جب وقت گذر جاتا ہے پھر لگتے ہیں تعریفیں کرنے ۔ شیخ عبدالقادرجیلانیؒ پر بھی قریبا دو سو علما ء وقت نے کفر کا فتویٰ لگایاتھا۔ ابن جوزی جو محدث وقت تتھا اس نے ایک کتاب لکھی اور ابلیس اس کا نام رکھا اور بہت کچھ تلخ ناز یبا الفاظ ان کے حق میں استعمال کئے ۔ دنیا جانتی ہے ۔ یہ صرف انہی پر نہیں بلکہ تمام اولیاء کے ساتھ یہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے ۔
غرض اسی منہاج پر مجھے بھی تمام پنجاب اور ہندوستان کے علماء نے کافر دجال فاسق فاجر وغیرہ کے خطاب دئیے ہیں اور کہتے ہیں کہ نعوذباللہ میں انبیاء کو گالیاں دیتا ہوں۔ حالانکہ میں ان تمام انبیاء کی عزت کرتاہوں اور ان کی عظمت اور صداقت ظاہر کرنے کے واسطے ہی میری بعثت ہوئی ہے۔ یقین جانو کہ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور میں ہی جھوٹا ہوں تو پھر تمام انبیاء میں سے کسی کی نبوت کو کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔ اگر حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کا ذکر کرنا گالیاں دینا ہے تو پھر سب سے پہلے جس نے حضرت عیسیٰ ؑ کو گالی دی وہ خدا ہے ۔
مُصلح کی ضرورت
میر امطلب یہ ہے کہ ہمیشہ سے ایسا چلا آیا ہے کہ جب دنیا میں حق اللہ اور حق العباد کی پروا دلوں سے اٹھ جاتی ہے ۔ اور ظلم اور تعدی انسانوں