مدارنجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے
تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قدافلح من زکھا (الشمس :۱۰)اورتزکیہ نفس بجز فضل خدا میسر نہیں آسکتا ۔یہ خداتعالیٰ کا اٹل قانون ہے لن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ۔(الفتح :۲۴)اوراس کا قانون جو جذب فضل کے واسطے ہمیشہ سے مقرر ہے وہ یہی ہے کہ اتباع رسول اللہ ﷺ کی جایو ۔ مگر دنیا میں ہزاروں ایسے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم بھی لاالہ الا اللہ کہتے ہیں ۔ نیک اعمال بجالاتے ہیں ۔ اعمال بد سے پرہیز کرتے ہیں ۔ اصل میں ان کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ ان کو اتباع رسول کی ضرورت نہیں مگر یا درکھو یہ بڑی غلطی ہے اور یہ بھی شیطان کا ایک بڑا دھوکہ ہے کہ ایسا خیال لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام پا ک میں تزکیہ اور محبت الہٰی کو مشروط باتباع رسول رکھا ہے تو کون ہے کہ وہ دعویٰ کرسکے کہ میں خود بخود ہی اپنی طاقت سے پاک ہوسکتا ہوں ۔ سچایقین اور کامل معرفت سے پر ایمان ہرگز ہرگز میسر ہیں نہیں آسکتا جب تک انبیاء کی سچی فرماں برداری اور محبت اختیار نہ کی جاوے گناہ سوزایمان اورخدا کو دکھادینے والا یقین بجزاقتداری اورغیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیوں کے جو انسانی طاقت اوروہم وگمان سے بالاتر ہوں۔ہر گز ہرگز میسر نہیں آسکتا ۔ دنیا اپنے کاروبار دنیوی میں جس استغراق اورنہماک سے مصروف ہوتی اورجیسی جیسی جانکاہ اورخطرناک مشکل سے مشکل کوششیں اپنی دنیا کے واسطے کرتی ہے ۔ اگر خداتعالیٰ کی طرف بھی اسی طرح کی کوشش سے قدم اٹھاویں اور اس وقت جو ایک آسمانی سلسلہ خداتعالیٰ نے اس غرض کے لئے مقرر فرمایا ہے ۔ اس کی طرف متوجہ ہوں تو ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ضرور اللہ تعالیٰ ان کے واسطے رحمت کے نشان دکھانے پر قادر ہے ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ لوگ اس پہلو سے لاپرواہیں ورنہ دینی امور اوراعمال کیامشکل ہیں ۔نماز میں کوئی مشکل نہیں ۔ پانی موجود ہے ۔زمین سجادہ کرنے کے واسطے موجود ہے۔ اگر ضرورت ہے تو ایک فرماں بردار اوراپاک دل کی جس کو محبت الہٰی کی سچی تڑپ ہو۔ دیکھو اگر ساری نمازوں کو جمع کیاجاوے اوران کے وقت کا اندازہ کیا جاوے تو شاید ایک گھڑی بھر میں ساری پوری ہوسکیں آخر پاخانہ بھی جاتے ہیں ۔ اگر اتنی ہی قدر نماز کی ان لوگوں کے دلوں میں ہوتو بھی یہ نماز کو اداکرسکتے ہیں ۔مگر افسوس اسلام اس وقت بہت خطرے میں ہے اور مسلمان درحقیقت نور ایمان سے بے نصیب ہیں ۔ اگر کسی کو ایک مہلک مرض لگ جاوے تو کیسا فکر لگ جاتا ہے مگر اس روحانی جذام کی کسی کو بھی پروا نہیں جس کا انجام جہنم ہے ۔
مامورین کیساتھ دنیا کا سلوک
اصل میں ہمارے پاس آنا خدا کے حضور جانا ہے اورہماری عزت درحقیقت خدااوررسول کے کلام کی عزت ہے