ﷺ اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں ۔ خداتعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرتا ان دلوں کو کہ ان میں ہمدردی بنی نوع ہوتی ہے ۔
صفات حسنہ اوراخلاق فاضلہ کے دوہی حصے ہیں اور وہی قرآن شریف کی پا ک تعلیم کا خلاصہ اورلب لباب ہیں ۔ اول یہ کہ حق اللہ کے اداکرنے میں عبادت کرنا فسق وفجور سے بچنا اورکل محرکات الہٰی سے پرہیز کرنا اوراوامر کی تعمیل میں کمر بستہ رہنا ۔ دوم یہ کہ حق العباد اداکرنے میں کوتاہی نہ کرے اوربنی نوع انسان سے نیکی کی کرے ۔بنی نوع انسان کے حقوق بجانہ لانے والے لوگ خواہ حق اللہ کو اداکرتے ہی ہوں بڑے خطر ے میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ستار ہے غفار ہے ۔رحیم ہے اورحلیم ہے اورمعاف کرنے والا ہے ۔ اس کی عادت ہے کہ اکثر معاف کردیتا ہے مگربندہ (انسان )کچھ ایسا واقع ہواہے کہ کبھی کسی کو کم ہی معاف کرتا ہے ۔ پس اگر انسان اپنے حقوق معاف نہ کرے توپھر وہ شخص جس نے انسانی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہویا ظلم کیا ہو خواہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں کوشاں ہی ہو۔ اورنماز ‘روزہ ‘وغیرہ احکام شرعیہ کی پابندی کرتا ہی ہو۔ مگر حق العباد کی پروانہ کرنے کی وجہ سے اس کے اوراعمال بھی حبط ہونے کا اندیشہ ہے ۔
غرض مومن حقیقی وہ یہے جو حق اللہ اور حق العباد دونو کو پورے التزام اوراحتیا ط سے بجالاوے ۔ جو دونو پہلوئوں کو پوری طرح سے مدنظر رکھ کر اعمال بجالاتا ہے وہی ہے کہ پورے قرآن پر عمل کرتا ہے ورنہ نصف قرآن پر ایمان لاتا ہے ۔ مگر یہ دوقسم کے اعمال انسانی طاقت میں نہیں کہ بزور بازواور اپنی طاقت سے بجالانے پرقادر ہوسکے ۔ انسان نفس امارہ کی زنجیروں میں جکڑ ا ہوا ہے ۔ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔ لہٰذا انسان کو چاہئیے کہ دعائیں کرتا رہے ۔ تاکہ خداتعالیٰ کی طرف سے اسے نیکی پر قدرت دی جاوے اورنفس امارہ کی قیدون سے رہائی عطاکی جاوے ۔یہ انسان کا سخت دشمن ہے ۔اگر نفس امارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا ۔ یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مارآستین ہے اورشیطان بیرونی دشمن ہے ۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب چورکسی کے مکان میں نقب زنی کرتا ہے توکسی گھر کے بھیدی اور واقف کا ر سے پہلے ساز ش کرنی ضروری ہوتی ہے ۔ بیرونی چور بجزاندرونی بھیدی کی سازش کے کچھ کر ہی نہیں سکتا ۔ پس یہی وجہ ہے کہ شیطان بیرونی دشمن ‘نفس امارہ اندرونی دشمن ۔ اورگھر کے بھیدی سے سازش کرکے ہی انسان کے متاع ایمان میں نقب زنی کرتا ہے اورنورایمان کو غارت کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما ابری نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء (الیوسف :۵۴)یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیںٹھہراتا اور اس کی طرف سے مطمئن نہیں کہ نفس پاک ہوگیا ہے بلکہ یہ توشریر الحکومت ہے ۔