جس قدر عظمت اورتڑپ ان کے دلوں میں ہوتی ہے خدااوراس کے رسول اوران کی رضا کی اتنی بھی تڑپ اور عظمت باقی نہیں رہی ۔ طاعون کا عالمگیر اورقہر ی نشان بھی ان کے واسطے مفید نہ ہوا۔ زلزلے بھی خداکے وعدے کے عین مطابق آگئے اور شہر وں کے شہر جو کسی وقت بڑے آباد تھے ویران ہوگئے ۔ مگر دنیا نے تبدیلی پیدا نہ کی ۔ چند روز ہوئے الہام ہوا۔ زلزلت الارض یہ بھی ایک مخفی اورخوفناک بات پر استدلال کرتا ہے ۔خواہ ظاہری ہوخواہ اندرونی ۔ کیونکہ زلزلہ کا لفظ ظاہر معنوں کے سوادوسرے معنوں پر بھی بولا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتاہے ۔ زلزلو ازلزالاشدید ا (الاحزاب :۱۲)اب جتنے نشان بھی اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے ہیں ان سب کا ان پر الٹا اثر ہوگا اورسب کو یہ طاعون کی طرح اتفاقی سمجھ کر سخت دل ہوجاویں گے ۔ فرعون والا حال ہے ۔ وہ بھی جب ایک عذاب میں افاقہ ہوتا تھا تو اسے عارضی اور اتفاقی جان کر اور بھی سخت دل ہوجاتا تھا ۔ آخر کار پھر غرق ہوتے وقت کہا میں بھی اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ۔خداکا نام پھر بھی نہ لیا ۔ یہی حال اس وقت اس قوم کا ہے ۔ طاعون تھا سووہ کسی قدر کم ہو ہی گیا ہے قحط بھی اب چند اں زور پر نہیں اورصورت امن کی نظر آنے لگ گئی ہے اب مطمئن ہوجاویں گے اوربیخوف ہوکر جرات اوردلیری سے ارتکاب معاصی اورجرائم میں آگے سے بھی سخت دل ہو کر ترقی کر جاویں گے ۔اورتو بہ اوراستغفار اورتوجہ الیٰ اللہ اورتبدیلی کی فکردلوں میں پیدانہ ہوگی ۔ مگر خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتو رہا ہے۔
بعد نماز عصر
صفات حسنہ اوراخلا ق فاضلہ کے دوحصے حقو ق اللہ اورحقوق العباد
(جناب شاہزادہ محمد ابراہیم خاں صاحب کی ملاقات کے وقت حضرت اقدس (علیہ السلام )نے بزبان فارسی تقریر فرمائی )
فرمایا :۔
دنیا میں اس زمانہ میں نفاق بہت بڑھ گیا ہے ۔ بہت کم ہیں جو اخلاص رکھتے ہیں ۔ اخلاص اورمحبت شعبہ ایمان ہے ۔ آپ کو خدا آپ کی محبت اوراخلاص کا اجر دے اورتقویت عطاکرے ۔ اخلاق فاضلہ اسی کا نام ہے بغیر کسی عوض معاوضہ کے خیال سے نوع انسان سے نیکی کی جاوے ۔ اسی کا نام انسانیت ہے ۔ ادنیٰ صفت انسان کی یہ ہے کہ بدی کا مقابلہ کرنے یا بدی سے درگذر کرنے کی بجائے بدی کرنے والے کے ساتھ نیکی کی جاوے یہ صفت انبیاء کی ہے اورپھر انبیاء کی صحبت میں رہنے والے لوگوں کی ہے اور اس کا اکمل نمونہ آنحضرت