ہوجاوے یا اسی رنگ میں آئندہ اوربھی زور سے پھوٹ نکلے ۔اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی افطرواصوم کا لفظ ہے ۔ یعنی ایک وہ وقت ہے جس طرح افطار میں کھانا پینا جائز ہوتا ہے ۔اسی طرح طاعون لوگوںکو کھاتا جاوے گا اورایک وقت ایسا بھی ہوگاکہ صوم کی طرح امن ہوجاوے گا۔ انی مع الرسول اقوم ۔ افطر واصوم ولن ابرح الارض الی الوقت المعلوم۔
لوگ امن اورآرام کے واسطے جلدی ایک بات بنالیا کرتے ہیں ۔ جی ایک بیماری تھی سوچلی گئی ۔ کیسا نشان اور کیسی تنبیہ !غرض اس طرح کے خیالات سے اپنی تسلی کرلیتے ہیں۔اصل میں طاعون بڑا وسیع لفظ ہے ۔ الطاعون ۔الموت کل امراض دوری کا نام ۔ یہ چیچک ہے ۔ ذات الجنب ہے ۔تپ ۔ گلٹیاں ۔قے ۔ سکتہ ۔ اس قسم کی کل امراض اس میں داخل ہیں یہ لفظ یادرکھنے کے قابل ہے کہ صحابہ ؓ کے وقت میں بھی ایک قسم کا طاعون پھوٹا تھا مگر وہ بہت باریک ایک دانہ کی طرح ایک پھنسی ہوتی تھی جو کہ ہتھیلی میں نکلتی تھی ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ غشی اور نیند کی حالت میں اوربعض ہنستے ہنستے ہی اس دنیا سے چل گذرتے ہیں ۔ بعض کو خون کے جلاب لگ جاتے ہیں ۔ بعض کا کسی کو علم بھی نہیں ہوتا کہ ہواکیا؟دس آدمی تھے رات اچھے بھلے سوئے مگر صبح ہوتے ہی ان میں سے ایک بھی زندہ نہ اٹھا ۔غرض اس قسم کے کئی واقعات ہیں کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرض کا کسی کو پتہ نہیں لگا اوراس کے کئی رنگ ہیں۔
اصل میں یہ وقفہ بھی شامت اعمال کی وجہ سے مفید نہیں بلکہ بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ لوگ اب دلیر ہو جاویں گے اور جرات سے ارتکاب جرائم کریں گے اور اس وقفے سے یہ نتیجہ نکال لیں گے کہ اجی صاحب !ایک بیماری تھی گذر گئی ۔نہ کوئی نشان ہے کسی کا اور نہ عذاب ۔غرض یہ خوشی کا مقام نہیں بلکہ جائے خوف ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ طاعون کی وجہ سے ایک قہر الہٰی ٹوٹ پڑاتھا ۔ دنیا پر ۔ ایسے وقت میں یہ الہام ہوا تھا کہ افطر واصوم یعنی ایک استعارہ تھا کہ کبھی یہ مر ض زورپکڑ جاوے گااور کبھی اس میں وقفہ بھی آجاوے گا ۔ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیر وامابانفسھم(الدعد :۱۲)خداتعالیٰ نہیں چھوڑے گا اورہر گز نہیں چھوڑے گاجب تک لوگ اپنے اخلاق ‘اعمال اورخیالات میں ایک تبدیلی پیدا نہ کرلیں ۔
اصل میں ان لوگوں کو یہ امر بھی گراںگذرتا ہے کہ خدا کی طرف کوئی امر منسوب کیا جاوے بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ اتفاقی طورسے ہوگئی ۔خداکا اس میں کیا دخل وتصرف ہے ۔اب ہمیں تواس بات کا فکر ہے کہ اب لوگ خواہ نخواہ یہ رائے قائم کرلیں گے اور پھر اس رائے کو صحیح یقین کریں گے کہ ایک اتفاقی مرض تھا سوجاتا رہا اب امن وامان ہوگیا ۔ غرض اس طرح سے اطمینان اورتسلی کرکے خداسے منہ پھیریں گے اوربے باکی اور جرات میں ترقی کرجاویں گے ۔ دلوں میں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ہی اٹھ چکی ہے ۔ دنیا کے حکام کی اوراپنی اغراض کی