دہریہ بے دین اوربے قید ہوتے ہیں ۔ جو شخص سچے طور پر پکا مسلمان ہوتا ہے اس پر حق کے پرکھنے کے واسطے بہت بڑی مشکلات پیش نہیں آتیں ۔ کیونکہ ایک مسلمان جو حقیقت میں مسلمان ہے اورسنت اللہ اور سنت رسول سے واقف ہے وہ ہمیشہ منہاج نبوت کو مدنظر رکھ کر ہی تحقیق کرے گا۔ ایسے لوگوں کے اعتراضات بہت تھوڑے رہ جاتے ہیں اور اس راستے کا بہت تھوڑا حصہ ان کے واسطے باقی رہ جاتا ہے اوراگر ایسا شخص ہے کہ اسے خود اسلام کے متعلق ہی شک وشبہات پیدا ہورہے ہیں اورابھی اس نے اسلام کی صداقت کا ہی فیصلہ نہیں کیا تو پھر ایسے لوگوں کے واسطے سلامتی کی کوئی راہ نہیں اور یہی ہیں کہ آخر وہ ہلاک ہوجاتے ہیں ایسے لوگ دراصل روحانی امور کے دشمن ہوتے ہیں ۔ ان میں ایک قسم کا کبر اور غرور ہوتاہے ۔ وہ لوگ اتباع کو عار سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ نئی روشنی میں بھی ہلاک ہوگئے مگر خدا کے آسمانی نور کو قبول نہ کیا۔
خداتعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قانون چلا آتا ہے کہ جب دنیا فسق وفجور اورگناہ سے پر ہوجاتی ہے اورہر قسم کے مفاسد دنیا میں پھیل جاتے ہیں تو خداتعالیٰ اپنی طرف سے ایک روحانی سلسلہ قائم کرکے زمانہ کی اصلاح کرتا ہے مگر وہ جو کہتا ہے کہ مجھے اس کی کیا ضرورت ہے گویا وہ خدا کے قانون کو بدلنا چاہتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے تو یہ بھی خوف ہے کہ ایک دین اسلام سے بھی انکار کردیں اور یہانتک کہ خود خداکی ہستی کی بھی ضرورت محسوس نہ کریں یہ بڑی خطرناک راہ ہے کیونکہ جو حقیقی اورسچی راہ شناخت اسلام اوروجود باری تعالیٰ پر دلیل تھی ان لوگوں نے اسی سے روگردانی کرلی ہے ۔ اکثر ان میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ معلومات وسیع کا دعویٰ کرتے ہیں مگر جاہل بلکہ اجہل ہوتے ہیں ۔ دین اورعلوم دینی سے ان کو مس بھی نہیں ہوتا۔ فائدہ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو خالی النفس ہوتے ہیں ۔دین اورخداتعالیٰ کی راہ میں سچی پیا س‘نرمی اورصبر سے کام کرتے ہیں ۔ روشنی کی ضرورت اس شخص کو ہوتی ہے جو ظلمت میں ہو۔ جس کے پاس پہلے ہی روشنی ہے وہ روشنی کا کیسے محتاج ہوسکتا ہے ۔جو برتن پہلے ہی پر ہے اس میں اورکیا داخل ہوسکتاہے ۔ہمیشہ خالی برتن میں کچھ بھراجاتا ہے ۔عمر کا اعتبار نہیں ۔ زمانہ بڑا خطرناک ہے ۔ بہت جلدی اس طرف توجہ کرنی چاہئیے۔
طاعون میں کمی خوشی کا مقام نہیں
طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ :۔
اس سال طاعون کسی قدر کم ہے ۔یہ کوئی خوشی کا مقام نہیں کیونکہ لوگوں نے طاعون سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ جس غرض کے واسطے یہ آیا تھا وہ غرض ابھی پوری نہیں ہوئی ۔ اصل میں یہ طاعون نام ہے موت کا ۔ لغت میں و ہ خطر ناک عوارض جن کا انجام موت ہوتا ہے اس کانام طاعون ہی رکھا ہے اور یہ لفظ لغت کی روسے بڑا وسیع ہے ۔ممکن ہے کہ اب کسی اوررنگ میں نمودار