واسطے بڑھتا ہے ۔انسان کا فرض ہے کہ تدبر کرے اورحق طلبی کی سچی تڑپ اورپیاس اپنے اندر پیدا کرے ۔معلوما ت کے وسیع کرنے کی جو سبیل اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے ان پر کاربند ہو۔ خدابھی بے نیاز ہوجاتا ہے ۔ اس شخص سے جو خداسے لاپروائی کرتا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے کہ ان اللہ غنی عن العالمین(ال عمران :۹۸)قبولیت دعا کے واسطے بھی کوشش اور صدق دل کی سچی تڑپ ہی کی ضرورت ہوتی ہے ۔دیکھو دنیوی امتحانات کے واسطے لوگ کیسی کیسی خطرناک کوششیں کرتے ہیں ۔ محنت کرتے کرتے ان کے دماغ پھر جاتے ہیں اور بعض اوقات خطر ناک امراض مثل جنون اورسل دق وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں اوربصورتت ناکامی بعض لوگ تو ایسے صدمات کے نیچے آجاتے ہیں کہ خودکشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے ۔ غرض ایک چند روزہ اوردنیوی زندگی کے لئے کیسی کیسی سختیاں برداشت کرتے ہیں ۔ آخر یہ کامیابیان کسی قدر ان کی محنتوں ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اگر ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ رہیں اورامتحان کی تیاری نہ کریں توکبھی کسی کو وہم بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کامیاب ہوں مگر جب بایں ہمہ سخت محنت اورکوشش کرنے والے بھی ناکام ہوجاتے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیئے کہ اب آئندہ کوشش ہی نہ کی جاوے ۔ یہ بالکل غلط راہ ہے ۔ کیا عجب کسی کا شعر ہے ؎؎
گرچہ وصالش نہ بکوشش وہند
ہر قدر اے دل کہ تو انی بکوشش
دیکھو ایک کسان کیسی جانکا ہی اورمحنت سے ایک فصل تیار کرتا ہے مگر بعض اوقات ژالہ باری سے اوربعض اوقات مبارک باراں کی وجہ سے اس کا فصل ضائع ہوجاتاہے مگر اس ناکامی پر ایسا نہیں ہوتا کہ پھر آئندہ کے واسطے لوگ زراعت ہی ترک کردیں ۔ہزاروں ہیں کہ باوجود ان ناکامیوں کے پھر بھی پورے زور سے کوشش کئے جاتے ہیں اور آخر اپنی کو ششوں کے ثمرات سے مستفید بھی ہوتے ہیں ۔
فیضان الہٰی کوشش پر موقوف ہے۔ دیکھو شاعر بھی جب کوشش کرتا ہے اورٹکریںمارتا ہے تو آخر کوئی نہ کوئی شعر سوجھ ہی جاتا ہے ۔ آپ کے واسطے بھی ضروری ہے کہ سلسلہ کی کتابیں مطالعہ کریں اور غور اورانصاف پسندی سے دیکھیں کہ آیا ان میں حق ہے یا کہ نہیں ۔ کسی امر کے متعلق رائے قائم کرنے کے واسطے معلومات کا ہونا ازبس ضروری ہے جس کی معلومات وسیع ہوجاتی ہیں وہ خود موازنہ کرسکتا ہے کہ فریقین میں سے کون حق بجانب ہے۔ اکثر لو گ غرور نفس کی وجہ سے اول تو ہمارے پاس آنے میں ہی مضائقہ کرتے ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تووہ گھر سے ہی فیصلہ کرکے آتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی گذرے ہیں اورہمیشہ محروم ہی رہ جایا کرتے ہیں۔ ایمان ان کے نصیب ہوتا ہی نہیں۔ اصل میں ایسے لوگ