غرض خداتعالیٰ چاہے تو صرف ایک ہی زلزلہ سے ہلاک کردے ۔ خداتعالیٰ کے آگے کوئی مشکل بات نہیں اب بھی خدا نے ایک زلزلہ کی خبر دی ہوئی ہے ۔ آوے گا اور بغتۃًآوے گا۔ہر شخص اپنے اپنے کام میں بے فکر ی سے مصروف ہوگا ۔فلسفے بھی آرام کی حالت میں سوجھتے ہیں۔ عذاب نظر آجاوے تو سب کچھ بھول جاتا ہے ۔وہ جو ۴اپریل والا زلزلہ تھا۔ اس کی بھی ہم نے قبل ازوقت خبر دی تھی اور یہ طاعون جس نے دنیا میں ایک کہرام مچارکھا ہے ۔اس کی بھی ہم نے قبل ازوقت خبر دی تھی ۔ کتابوں میں اشتہاروں میں اس بات کو شائع کردیا تھا ۔ کوئی زبانی بات ہی نہیں ۔ چنانچہ وہ بعینہٖ بالکل پیشگوئی کے مطابق ظاہر ہوئی اور ابھی خدانے بس نہیں کی ۔ اس نے دنیا کو متنبہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اورنہیں چھوڑے گا جب تک طاقتور حملوں سے دنیا کو منوانہ لے گا۔ ہمارے لئے توہر رات نئی ہوتی ہے ۔ خداجانے کیا ہونے والا ہے اورکیا کچھ ہوگا۔ ہمیشہ ترساں ولرزاں اوردعائوں میں مصروف رہنا چاہئیے ۔۱؎
۲مئی ۱۹۰۸ئ
قبل ظہر ۔بمقام لاہور
سچائی کی تلاش کیلئے کوشش کرنا فر ض ہے
ایک گریجویٹ صاحب حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی کہ آپ دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ حضور کے اس نور کی شناخت کی توفیق دے تاکہ اس نعمت سے محروم نہ رہ جائیں ۔وغیرہ ۔فرمایا:۔
اگر چہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے مگر کوشش کرنا انسان کا فرض ہے ۔جیسا کہ قرآن شریف نے صراحت سے حکم دیا ہے کہ یس للا نسان الاماسعی (النجم:۴۰)یعنی انسان جتنی جتنی کوشش کریگا اسی کے مطابق فیوض سے مستفیض ہوسکے گا ۔ اوردوسری جگہ فرمایا والذین جا ھد وافینا لنھدینھم سبلنا(العنکبوت:۷۰)جو لوگ خدامیں ہوکر خدا کے پانے کے واسطے تڑپ اورگدازش سے کوشش کرتے ہیں ۔ ان کی محنت اورکوشش ضائع نہیں جاتی اور ضرور ان کی راہبری اورہدایت کی جاتی ہے ۔ جوکوئی صدق اورخلوص نیت سے خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے خداتعالیٰ اس کی طرف راہ نمائی کے
۱؎ الحکم جلد ۱۲نمبر ۳۲صفحہ ۱تا ۵ مورخہ ۱۰مئی ۱۹۰۸ئ