ایسا ہی ہے تو کیا اندیشہ نہیں کہ کسی وقت خدا تعالیٰ کی صفت سننے کی اور دیکھنے کی بھی معطل ہو جاوے ۔ افسوس ایسے بیہود ہ خیالات پر ۔ خدا تعالیٰ جس طرھ سے پہلے تمام انبیاء کے ساتھ بولتا تھا اور کلام کرتا تھا۔ اسی طرح اب بھی بولتا ہے ۔ چنانچہ ہم خود اس ثبوت کے واسطے موجود ہیں ۔ یقین جانو کہ جس طرح خد ا دیکھتا ہے اور سنتا ہے اسی طرح کلام بھی کرتا ہے ۔ بجز اس کے کہ خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کو اسلما میں ہمیشہ کے واسطے مانا جاوے اسلام کی زندگی ہی نہیں رہتی اور کبھی عزت ہی نہیں پاسکتا اور اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک بے فیوض اور بے برکت مردہ مذہب رہ جاتا ہے ۔
آپ اگر آج اس وقت اس بات کو نہ سمجھو گے تو پھر کسی دوسرے وقت میں سمجھ جائو گے ۔ اس کے مانے بغیر تو پھر اسلام رہ ہیںنہیں سکتا ۔ اور آپ کو بھی مانے بغیر چارہ نہیں ہو گا۔ اگر فطرت ہی کسی کی بے پرواہو تو فطری نقص کو تو کوئی دور کر نہیں سکتا۔ ورنہ اگر فطرت سلیم ہے تو پھر کبھی کشاں کشاں ادھر آہی جاوے گا۔
سوال کیا گیا کہ کیا ایک ہی وقت میں کئی نبی ہو سکتے ہیں؟
فرمایا:۔
ہاں ۔ خواہ ایک وقت میں ہزار بھی ہو سکتے ہیں ۔ مگر چاہیے ثبوت اور نشان صداقت ہم انکار نہیں کرتے ۔
کیا یہ آخری صدی ہے ؟
سوال کیا گیا یہ آخری صدی ہے؟
فرمایا:۔
اس کا علم خداتعالیٰ کو ہے ۔وہ قادر ہے کہ ایک زلزلہ سے تمام دنیا کا خاتمہ کردے ۔ اصل بات یہ ہے کہ آرام اورخوشی کے وقت میں بھی انسان کو ایسے ایسے سوالات سوجھتے ہین اگر کوئی ذراسی بھی مشکل آجاوے یاا بھی ایک زلزلہ آجاوے اور مکانات لرزنے لگ جاویں تو اس وقت معاً خیال کرلیں گے کہ قیامت آگئی اوریہی دنیا کے خاتمہ کا وقت ہے اورسچے دل سے خداکو مان لیں گے ۔ مگر جب امن ہوجاتا ہے تو پھر ایسے ایسے سوالات ہی سوجھا کرتے ہیں۔
فرمایا :۔
میر محمد اسمٰعیل صاحب نے گذشتہ ۴ اپریل ۱۹۰۸ئ والے زلزلہ کے متعلق قصہ سنایا کہ ایک شخص دہر یہ تھا اورخداسے منکر تھا مگر جب زلزلہ آیا وہ بھی رام رام کرنے لگ گیا۔ آخر جب وہ وقت جاتا رہا تو اس سے سوال کیا گیا کہ تم خداکے منکر ہو پھر اس وقت رام رام کیسا تھا ؟شرمندہ ساہو کر کہنے لگا کہ اصل میں میں نے غلطی ہی کھائی میری عقل ہی ماری گئی تھی ۔